کیا میں اپنے دوستوں کی طرف سے دی گئی زکوۃ کی رقم کو اپنے بہن اور بھائیوں میں بطورِ میراث تقسیم کر سکتا ہوں؟
نوٹ: سائل مقروض تھا، اور اس نے اپنے والد کا ترکہ اپنا قرض اتارنے میں صرف کر دیا تھا ،اب اس کے دوستوں نے اس کوزکوۃ کی رقم دی ہے ، اب اس رقم کو سائل اپنے بہن اور بھائیوں میں بطورِ میراث تقسیم کرنا چاہتا ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنے والد مرحوم کے ترکہ میں تقسیم کرنے سے پہلے تصرف کرنا شرعا جائز نہیں تھا ،بلکہ تمام ورثاء تک ان کا حق پہچانا لازم اور ضروری تھا ،تاہم اگر سائل نے اپنے والد مرحوم کا ترکہ اس کے ورثاء میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے قرض اتارنے میں صرف کر دیا ہو، تو ایسی صورت میں سائل اپنے دیگر ورثاء کا مقروض بن چکا ہے،اور اب اس کی ادائیگی سائل پر لازم ہے ، چنانچہ اگر سائل واقعۃًمستحقِ زکوۃ ہو تو زکوۃ کی رقم وصول کر کے ورثاء کا مذکور قرض اتارنے میں بلاشبہ وہ استعمال کر سکتا ہے ۔
کما فی الدر المختار: ( لأن الترکۃ فی الإصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال الخ ( ج: 6، ص 758، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: و لا یجوز لأحدھما أن یتصرف فی نصیب الآخر إلا بأمرہ و کل واحد منھما کالأجنبی فی نصیب صاحبہ الخ ( کتاب الشرکۃ ج: 2،ص: 301،ط: ماجدیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ: و کل واحد من الشرکاء فی شرکۃ الملک اجنبی فی حصۃ الآخر لیس واحد وکیلا عن الآخر فلا یجوز تصرف أحدھما فی حصۃ الآخر بدون إذنہ لکن کل واحد من أصحاب الدار المشترکۃ یعتبر صاحب الملک مخصوص علی وجہ الکمال فی السکنی و فی الأحوال التابعۃ لھا کدخول و الخروج الخ ( الفصل الثانی ج:4 ص:15،ط: مکتبۃ اسلامیۃ)۔
و فیھا أیضا: کل یتصرف فی ملکہ کیف یشاء لکن إذا تعلق حق الغیر بہ یمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الإستقلال الخ (الباب الثالث ج: 4 ، ص:132، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ)۔