اگر کوئی برتھ ڈے(سالگرہ) کا کھانا بھیجے تو کھا سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ کیک نہیں بھیجا تھا،ہم ان کو پہلے ہی بتا چکے تھے کہ برتھ ڈے کا کیک ہم نہیں کھاتے تو انہوں نے بریانی بھیج دی،بریانی بھی برتھ ڈےمیں شامل ہونے والے لوگوں کےلئے منگوائی تھی، برتھ ڈے ہمارے پڑوسی نے اپنے رشتہ دار کو بلا کے منائی تھی ۔
واضح ہو کہ سالگرہ (برتھ ڈے ) کا رواج اصل میں مغربی تہذیب کی برآمد ات میں سے ہے، وہ حضرات،مسیح علیہ السلام کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں ،جبکہ آپﷺنے دوسری قوموں سے مذہبی اورتہذیبی مماثلت اختیار کرنے کو ناپسند فرمایا ہے اور احادیثِ مبارکہ میں صراحۃً اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے ، اس لئے سائل اور دیگر مسلمانوں کو ایسے امور سے بچنا چاہیے ،جبکہ سبب اور محرک (ولادت) پائے جانے کے باوجود قرآن وحدیث ، صحابہ وسلف صالحین سے قولاً یا فعلاً یہ عمل ثابت نہ ہونا بھی دلیلِ منع ہے۔ لہذا اس طرح کے پروگرامات کے انعقاد اور اس میں شرکت سے اجتناب چاہیئے، تاہم اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کئے بغیر اگر کسی پڑوسیوں یا رشتہ داروں کی جانب سے کھانے پینے کی اشیاء گھر پر بھیج دیئے جائیں اور اس میں حرام اجزاء کی آمیزش نہ ہو، تو اس کا کھانا اگرچہ نا جائز اور حرام نہیں مگر اس طرح کے پروگراموں کا کھانا کھانے سے اس قسم کے اعمال کی حوصلہ افزائی کا پہلو واضح ہوتا ہے ،اس لئے ان کے کھانے سے احتراز ہی بہتر ہے ۔
کما فی مرقاة المفاتیح: (وعنه): أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم): أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخيراھ(کتاب اللباس، ج: 8، ص: 155، ط: حقانیۃ)۔
وفی فتح الباری: قال بن المنير فيه أن المندوبات قد تنقلب مكروهات إذا رفعت عن رتبتها لأن التيامن مستحب في كل شيء أي من أمور العبادة لكن لما خشي بن مسعود أن يعتقدوا وجوبه أشار إلى كراهته والله أعلم الخ ( باب الانفتال والانصراف عن اليمين والشمال، ج: 2، ص: 430، ط: قدیمی)۔