مباحات

طلباء سے سند کے پیسے لینا

فتوی نمبر :
88574
| تاریخ :
2025-11-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

طلباء سے سند کے پیسے لینا

سوال:بعض مدارس بنات میں یہ معمول ہے کہ فراغت کے بعد استاذ صاحب یا معلمہ صاحبہ طالبات کو سند فراغت یا سند حدیث دو ہزار روپے لے کر دیتے ہیں ، حالانکہ سند کی طباعت یا تیاری کی اصل لاگت بہت معمولی ہوتی ہے ۔ اگر کوئی طالبہ دو ہزار روپے نہ دے، تو اسے سند جاری نہیں کی جاتی ، جس کی وجہ سے غریب طالبات بغیر سند کے رہ جاتی ہیں اور ان کا مستقبل متاثر ہوتا ہے،ایسی صورت میں مفتیان کرام سے دریافت ہے کہ کیا سند دینے کے عوض اتنی رقم لینا شرعاً جائز ہے ، جبکہ اس کی وجہ سے بعض طالبات سند سے محروم رہ جاتی ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دینی مدارس میں احادیثِ مبارکہ کی مشہور کتب کے اختتام پر طلباءِ کرام کو سنِد حدیث دینا معروف اور مروج ہے،چنانچہ احادیث ِ مبارکہ کی مشہور کتب کی تدریس کرنے والے اساتذہ کرام کا اپنے طلباء کو سندِحدیث فراہم کرنا ’’عرفاً‘‘ ان کی ذمہ داری ہے،لہذا بنات کے مدارس میں احادیث مبارکہ کی مشہور کتب پڑھانے والے اساتذہ کرام اور معلمات کے لئے فقط سند کی اجراء پر طالبات سے فیس وصول کرنا جائز نہیں،البتہ سند کی طباعت وغیرہ پر جو ضروری اخراجات آتے ہیں،وہ اس کے بقدر رقم طالبات سے وصول کی جاسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح الخ(الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها،ج 4،ص 411،ط:ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا عليه قبل الإجارة لم تصح الإجارة لأن من أتى بعمل يستحق عليه لا يستحق الأجرة كمن قضى دينا عليه الخ(فصل و اما شرائط الرکن فانواع،ج 4،ص 191،ط: دار الكتاب العربي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88574کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات