مباحات

بوقتِ ضرورت آئی وی ایف کے ذریعہ بیٹے کے انتخاب کا حکم

فتوی نمبر :
88623
| تاریخ :
2025-11-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بوقتِ ضرورت آئی وی ایف کے ذریعہ بیٹے کے انتخاب کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب:میرا نام جاوید ہے اور میں کراچی سے ہوں ۔مجھے آپ کی کی فوری رہنمائی درکار ہے ۔دس نومبر کو علاج کروانا ہے ،اسلیےجلدجواب مطلوب ہے۔میرا معاملہ جدید سائنس اور طبی ترقی سے متعلق ہے ،جس میں آپ کی رہنمائی اور فتوی درکار ہے۔ میری شادی کو چھ سال ہو چکے ہیں، شادی کے ایک سال بعد اللہ تعالی نے ہمیں ایک بیٹی سے نوازا۔ اس کے بعد سے ہم پچھلے تین سالوں سے ایک اور بچے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے کئی ڈاکٹروں سے رجوع کیا ،جنہوں نے مشورہ دیا کہ اب IVF (ان وٹرو فرٹیلائزیشن) کا طریقہ علاج اپنانا پڑے گا۔میری اہلیہ اور میں دونوں قدرتی طور پر اولاد چاہتے ہیں ، مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اتنے عرصے بعد اب ایسا ممکن نہیں رہا ،اس لیے ہم نے IVF کے عمل سے گزرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کامیابی کے امکانات تقریبا تیس فیصد ہیں اور اس کے بعد مزید اولاد کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ IVFکے اس عمل میں بچے کی جنس منتخب کرنے (جینڈر سلیکشن )کا آپشن بھی موجود ہے ۔ہماری صورتحال کے پیش نظر ہم نے خاندانی توازن کے لیے بیٹے کے انتخاب پر غور کیا ہے ۔کیونکہ پہلے ہی اللہ نے ہمیں بیٹی عطا فرمائی ہے ۔ہمارے سوالات اور وضاحتیں درج ذیل ہیں
1_کیا اس طرح کی صورتحال میں بچے کی جنس منتخب کرنا اسلام میں جائز ہے؟ 2_ ہم بیٹی کو کسی طور پر کمتر نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ 3_ـ ہم ائی وی ایف صرف طبی وجوہات کی بنا پر منتخب کر رہے ہیں صرف بیٹا پانے کے لیے نہیں۔ 4_ـ ہم صرف خاندانی توازن چاہتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس پہلے سے ایک بیٹی ہے اور اگر بیٹا ہوتا تو ہم بیٹی کا انتخاب کرتے۔ 5_ـ ہمارا ارادہ اس عمل کو عام کرنے یا دوسروں کو اس کی ترغیب دینے کا نہیں۔ 6_ـ چونکہ یہ دوسرا بچہ پیدا کرنے کا شاید ہمارا آخری موقع ہے، اس لیے ہم بہت سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ مہربانی فرما کر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے حصول اولاد کے جتنے طرق رائج ہیں ان سب میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ مادہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے ،اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی ماہر معالج عورت سے کرایا جائے اور اس دوران ستروحجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے لہذا اگر سائل اور اس کی بیوی درج بالا تفصیل کے مطابق حصول اولاد کے لیے "IVF" کا طریقہ کار اختیار کریں تو اس کی گنجائش ہے، اور پھر اگر خاندانی ضرورت کے پیش نظر وہ بیٹی کے بجائے بیٹے کا انتخاب کریں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار: أقول: سنذكر في الاستيلاد عن البحر عن المحيط ما نصه: اذا عالج الرجل جاريته فيما دون الفرج فانزل فأخذت الجارية مائه في شيء فاستدخلته في فرجها في حدثان ذلك فعلقة الجارية وولدت فالولد ولده ،والجارية أم ولد له اھ فهذا الفرع يؤيد بحث صاحب البحر.(ج:3،باب العدة،ص:528،مط:ایچ ایم سعید کراچی).
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق :الحمل قد يكون بادخال الماء الفرج بدون جماع مع أنه نادرٌ.(ج:4،ص:156،مكتبةرشيديةكوئٹہ).
وفي الفقه الاسلامي وادلته: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المراة بدون جماع، فان كان بماء الرجل لزوجته جاز شرعا ،إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك مانع شرعي من الاتصال الجنسي ، و أما ان كان بماء رجل أجنبي عن المراة لا زواج بينهما ، فهو حرام (ج:3، ص:552، مكتبة رشيدية ھرات).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88623کی تصدیق کریں
0     27
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات