السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !محترم مفتی صاحب !
میں عبد الرؤف بلوچ ، امام وخطیب جامع مسجد عثمانیہ ،پرانا گولیمار کراچی،مجھے ایک شرعی مسئلہ در پیش ہے ،براہ کرم قرآن وسنت کی اور عقائد اہلسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔
محترم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے بلوچ قوم میں ایک فرقہ ”ذکری“نام سے ہے ، جو حضور خاتم النبیین ﷺکے ختم نبوت کا منکر ہے،اور ملا محمد اٹکی کو نبی مانتے ہیں ،یہ لوگ نماز ،رمضان کے روزے ، زکوۃ اور حج کے منکر ہیں،تو براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ ان کاذبیحہ کھانا ،ان کی دعوتوں میں جانا،ان سے رشتہ داری قائم کرنا،ان کی میتوں کے ساتھ جانااور ان کی میت کا اعلان مسلمانوں کی مسجد میں کرنا کیساہے؟
مذکور فرقہ عقائدِ اسلامیہ ( جیسےختم نبوت وغیرہ)فرائضِ اسلام(جیسےاور نماز ،روزہ ، حج وغیرہ )کے انکار کیوجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہے ، اس لئے ان کا ذبیحہ کھانا ، یا ان سے رشتہ داری(مناکحت) قائم کرنا ،ان کی نماز جنازہ میں شرکت یا ان کے انتقال پر مساجد میں اعلان وغیرہ کرنا جائز نہیں ، اس قسم کے تمام امور میں شرکت سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر فتنہ میں پڑنے یا ان کے عقائد ونظریات سے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتو صرف دعوت دین کی خاطر ایک محتاط حد تک قلبی دوستی قائم کیے بغیران سے میل جول کی گنجائش ہے۔
کما فی مجمع الانھر: وفي البزازية يجب الإيمان بالأنبياء بعد معرفة معنى النبي وهو المخبر عن الله تعالى بأوامره ونواهيه وتصديقه بكل ما أخبر عن الله تعالى وأما الإيمان بسيدنا محمد عليه الصلاة والسلام فيجب بأنه رسولنا في الحال وخاتم الأنبياء والرسل فإذا آمن بأنه رسول ولم يؤمن بأنه خاتم الأنبياء لا يكون مؤمنا الخ(کتاب السیر،باب المرتد،ج1،ص691،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الھندیۃ: إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن وفي الخزانة، أو عاب كفر الخ(کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج2، ص266، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضا: وإن أنكر فرضية الركوع والسجود مطلقا يكفر حتى إذا أنكر فرضية السجدة الثانية يكفر أيضا لرده الإجماع والتواتر الخ(کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج2،ص269،ط: ماجدیۃ)۔
وفی الشامیۃ تحت: (مطلب حكم الدروز والتيامنة والنصيرية والإسماعيلية)(الی قولہ) ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون في جناب نبينا صلى الله عليه وسلم كلمات فظيعة. (الی قولہ) ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوى في الخيرية أيضا فراجعها. (کتاب الجھاد، ،ج4،ص244،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضا: (و) حرم نكاح (الوثنية) بالإجماع الخ
وفی الرد تحت قولہ: (وحرم نكاح الوثنية)(الی قولہ) ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية. وفي شرح الوجيز وكل مذهب يكفر به معتقده. اهـ.
قلت: وشمل ذلك الدروز والنصيرية والتيامنة، فلا تحل مناكحتهم، ولا تؤكل ذبيحتهم الخ(کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج3،ص45،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ:أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد؛ لأنه لا يقر على الدين الذي انتقل إليه الخ( کتاب الاضحیۃ، الباب الاول، ج5، ص285، ط:ماجدیۃ)۔
وفی التاتارخانیۃ: واعلم اذا کان خلف جنازۃ الکافر من قومہ من یتبع الجنازۃ لا ینبغی لقریبہ المسلم ان یتبع الجنازۃ حتی لایکون مکثر سواد الکفرۃ الخ(کتاب الصلاۃ، صلاۃ الجنازۃ،ج3،ص77،ط: مکتبۃ زکریا دیوبند)۔