میری ناک ٹیڑھی ہے، جس کی وجہ سے میری ناک ایک طرف سے پھولی ہوئی لگتی ہے،تو کیا میں سیپٹو رائنو پلاسٹی کروا سکتی ہوں، جب کہ مجھے سانس لینے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟ میری عمر تیس سال ہے، میرا رشتہ نہیں ہو رہا، اور میرے ماں باپ بہت پریشان ہیں۔
واضح ہوکہ اگرجسم کا کوئی عیب بدنمائی کی وجہ سے جسمانی یا نفسیاتی تکلیف اور احساسِ کمتری پیدا کررہاہو، اور یہ صرف سرجری سے دور ہو سکے تواس صورت میں ایسی سرجری کراناجس میں دوسرے انسان کاکوئی جزءبدن نہ لگایاجائے توبقدرضرورت اسکی گنجائش ہے، تاہم غیر ضروری زیب و زینت کے لیے سرجری کرنا ناجائز ہے جس سےبہرصورت احتراز لازم ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کی ناک کاعیب اس کےلیے کوئی طبی یا نفسیاتی دشواری پیدا نہ کررہاہو تومحض زیب و زینت کے لیےسرجری کروانے سے اجتناب کرناچاہیے ۔البتہ اگر سائلہ یااس کے اہلِ خانہ اس عیب کی وجہ سے ذہنی یا سماجی اذیت میں مبتلا ہیں اور یہ سائلہ کی ازدواجی زندگی شروع کرنے میں رکاوٹ کاباعث بن رہاہو، تو اس صورت میں ماہردیندارمعالج کے مشورے سے بقدرضرورت سرجری کی گنجائش ہوگی۔
کما فی تفسیر قرطبی: "وهذه الأمور كلها قد شهدت الأحاديث بلعن فاعلها وأنها من الكبائر. واختلف في المعنى الذي نهي لأجلها، فقيل: لأنها من باب التدليس. وقيل: من باب تغيير خلق الله تعالى، كما قال ابن مسعود، وهو أصح، وهو يتضمن المعنى الأول. ثم قيل: هذا المنهي عنه إنما هو فيما يكون باقيا، لأنه من باب تغيير خلق الله تعالى، فأما مالا يكون باقيا كالكحل والتزين به للنساء فقد أجاز العلماء ذلك مالك وغيره، وكرهه مالك للرجال، (5/393، دار الكتب المصرية)-
و فی فتاوی شامی "واتخاذ الأنف فجوز الأنف من الذهب لضرورة نتن الفضة لأن المحرم لا يباح إلا لضرورة وقد اندفعت في السن بالفضة فلا حاجة إلى الأعلى وهو الذهب. قال الأتقاني: ولقائل أن يقول مساعدة لمحمد لا نسلم أنها في السن ترتفع بالفضة لأنها تنتن أيضا وأصل ذلك ما روى الطحاوي بإسناده إلى «عرفجة بن أسعد أنه أصيب أنفه يوم الكلاب في الجاهلية فاتخذ أنفا من ورق فأنتن عليه، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يتخذ أنفا من ذهب، ففعل،(کتاب الحظر والاباحہ،362/6،ط: مطبعۃ مصطفی الباہی الحلبی)-