مباحات

کسی مجرم کی ضمانت دلوانے کا حکم

فتوی نمبر :
89033
| تاریخ :
2025-11-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کسی مجرم کی ضمانت دلوانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک قریبی رشتہ دار ہے جس کا نام ”عدنان سید“ ہے، جیل میں بند ہے ، اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منشیات اور دیگر مقدموں میں بند ہوچکاہے ، اس نے مجھے جیل میں ملاقات کے لئے بلوایا اورکئی قسمیں کھائی کہ اب میں نےسچے دل سے توبہ کی ہے ،لہذا میں باہر آکر کوئی غلط کام نہیں کروں گا،اور دین داری اختیار کرونگا، آپ مجھے ضمانت کرواکے نکلواؤ،کیا مجھے اس کو ضمانت پر رہائی دلوانی چا ہیئےیا نہیں ؟مسئلہ بتادیں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں(آمین)جبکہ اس کے والدین نہیں ہیں ،بیوی اور دوچھوٹے بچے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص ”عدنان سید“ چونکہ ماضی میں متعدد مرتبہ منشیات اور دیگر جرائم میں ملوث رہا ہے اور کئی بار جیل بھی جا چکا ہے، اس لیے اس کے بارے میں غالب گمان کےمطابق ضمانت پر باہر آنے کے بعد دوبارہ جرم کی طرف لوٹ آنے کا امکان موجود ہے۔اگرچہ اس نے جیل میں توبہ کا اظہار کیا ہے، لیکن ایسی توبہ کی حقیقت کا اندازہ باہر آکر ہی ہوتا ہے، اور شرعی طور پر کسی ایسے شخص کے لیے ضمانت دینا جس کے بارے میں غالب گمان ہو کہ وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ یا دوبارہ جرم کا مرتکب ہوسکتاہے، جائز نہیں ، کیونکہ اس سے تعاون علی الإثم (گناہ میں معاونت) کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
تاہم اگر سائل اس کی سابقہ زندگی سے واقف ہو،اس کی اصلاح کے معتبر آثار دیکھتا ہو،یقین یا کم ازکم غالب گمان رکھتا ہو کہ اب وہ واقعی توبہ کرکے سیدھی راہ پر چلے گا،اور ضمانت کے بعد اس کی نگرانی، سرپرستی اور اصلاح کی کوشش بھی کر سکے،تو ایسی صورت میں ضمانت دینے کی گنجائش نکل سکتی ہے، کیونکہ اس میں اصلاح و نفع کی امید غالب ہے ۔
لہٰذا موجودہ صورتِ حال میں اگر سائل کو واقعی اس کی اصلاح اورتوبہ پر قائم رہنےکاغالب گمان ہواوروہ اس کی نگرانی بھی کرسکےگا، تو ضمانت دینے کی گنجائش ہے۔اوراگرسائل کواس کی بات پراعتمادنہ ہویاوہ اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہ اُٹھاسکتاہوتو اس کی ضمانت کروانے سے احترازچاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی تفسیر القرطبی تحت ( قولہ تعالیٰ: يا أيها الذين آمنوا توبوا إلى الله توبة نصوحا الخ)(الی قولہ) فإن كان الذنب من مظالم العباد فلا تصح التوبة منه إلا برده إلى صاحبه والخروج عنه- عينا كان أو غيره- إن كان قادرا عليه، فإن لم يكن قادرا فالعزم أن يؤديه إذا قدر في أعجل وقت وأسرعه الخ(سورۃ التحریم،الایۃ8، ج18، ص200،ط:دار الکتب المصریۃ)۔
وفی تفسیر ابن کثیر: قوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان ‌يأمر ‌تعالى ‌عباده ‌المؤمنين ‌بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم،الخ(سورۃ المائدۃ،الایۃ:2،ج3،ص10،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الصحیح للبخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من كانت له مظلمة لأحد من عرضه أو شيء فليتحلله منه اليوم، قبل أن لا يكون دينار ولا درهم، إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته، وإن لم تكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه الخ(کتاب اللقطۃ،باب من كانت له مظلمة عند الرجل فحللها له، هل يبين مظلمته،ح2317،ج2،ص865،ط:دار ابن کثیر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89033کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات