گناہ و ناجائز

اپنی دکان کے سامنے ٹھیہ لگانے والے سے کرایہ لینے کا حکم

فتوی نمبر :
89037
| تاریخ :
2025-11-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اپنی دکان کے سامنے ٹھیہ لگانے والے سے کرایہ لینے کا حکم

میری شیر شاہ روڈ پر ویلڈنگ کی ایک چھوٹی سی دکان ہے ،دکان کے آگے ایک شربت کی ریڑھی لگتی ہے ،جو کہ وہ ریڑھی والا روزانہ کچھ نہ کچھ کرایہ کی مد میں ہمیں دیتا ہے ،اور صبح 10 بجے سے رات 11/12 بجے تک جوسر مشین چلاتے ہیں ،اور ظاہر سی بات ہے بل بھی زیادہ آتا ہے ،کیا میں ان سے کرایہ کی مد میں رقم وصول کر سکتا ہوں یا نہیں ؟ ان کا یہ ذاتی کاروبار ہے ،اور میرا صرف ویلڈنگ کا کاروبار ہے ،شریعت کی روشنی میں بتا دیں ، پہلے مجھے علم نہیں تھا اب آہستہ آہستہ دین سے جڑ رہا ہوں، پھر علم ہوتا جا رہا ہے،آپ صاحبان کی بہت نوازش ہو گی۔
نوٹ: سائل کی ویلڈنگ کی دکان اور اس کے باہر ایک بندہ ریڑھی لگاتا ہے ،اور سائل روزانہ کی بنیاد پر اس سے بجلی کے بل اور کرایہ کی مد میں رقم وصول کرتا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دکاندار کے لئے اگرچہ دکان کے عین سامنے کسی اور شخص کو ٹھیہ وغیرہ لگانے سے منع کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ دکان میں آنے جانے والوں کا راستہ بند نہ ہو ، تاہم دکان کے سامنے والی جگہ اگر دکان کا صحن اور مالک دکان کی ملکیت نہ ہو ، بلکہ شارع عام یا فٹ پاتھ وغیرہ کی صورت میں لوگوں کے گزرنے اور آنے جانے کا راستہ ہو، تو چونکہ وہ دکان کے مالک یا کرایہ دار کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لئے دکان کے مالک یا کرایہ دار کے لئے وہ جگہ کرایہ پر دینا جائز نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور دکان کے باہر کی جگہ سائل کی اپنی ملکیت نہ ہو بلکہ فٹ پاتھ اور شارع عام ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لیے مذکور ریڑھی والے سے کرایہ لینا شرعا جائز نہیں ،البتہ اگر سائل اپنی دکان کے صحن وغیرہ میں اسے کچھ جگہ کرایہ پر دے کر کرایہ وصول کرے تو ایسا کرنا شرعا ً جائز ہو گا ۔
جبکہ سائل نے مذکور ریڑھی والے کو بجلی کا جو کنکشن دیا ہے ،اگر وہ قانوناً ممنوع نہ ہو تو اس مد میں اتنی رقم وصول کرنا، جتنی بجلی یہ شخص استعمال کرتا ہو شرعا جائز اور درست گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وللمستاجر أن یؤجر المؤجر) بعد قبضہ قیل وقبلہ الخ۔
وفي رد المحتار تحت:( قولہ للمستأجر أن ی‍ؤجر الموجر الخ ) أي ما استاجرہ بمثل الأجرۃ الأولیٰ أو بأنقص فلو بأکثر تصدق بالفضل۔ (باب فسخ الإجارۃ، مطلب في إجارۃ المستاجر للموجر ولغیرہ ج:6،ص:91،ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه(إلی قولہ) ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده، إلا السلم والمغصوب لو باعه الغاصب ثم ضمن قيمته الخ (مطلب شرئط البیع أنواع ج:4,ص:505,ط: سیعد)۔
و في الهندية : و منها الملك و الولاية فلا تنعقد إجارة الفضولي لعدم الملك و الولاية لكنهاتنعقد موقوفة على إجازة المالك عندنا الخ (، کتاب الأجارۃ الباب الأول فی تفسیر الإجارۃ ج:4،ص:410،ط: ماجدیۃ)۔
و فيها أيضا : و أما إذا بنى المشرعة على ملك العامة ثم أجرها من السائقين لا يجوز سواء أجر منهم للاستقاء أو أجر منهم ليقوموا فيها و يضعوا القرب الخ ( کتاب الإجارۃ فصل في المتفرقات ، ج:4،ص: 453،ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89037کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات