بالوں میں ایکسٹینشن لگوانا جائز ہے؟
مصنوعی بال (ہئیر ایکسٹینشن) انسان یا خنزیر کے بالوں سے بنے ہوئے ہوں تو بنص حدیث حرام ہے جس کا لگوانا قطعاً جائز نہیں(آج کل اکثر ایکسٹینشن انسانی بالوں کے بنے ہوئے ہی ملتے ہیں)،البتہ اگر وہ انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کسی اور دھات کے بنے ہوئے ہوں اوران سے مقصوددھوکہ دہی یا زینت کے نام پر فطری ساخت بدلنا مقصود ہونہ ہوبلکہ محض علاج یا عیب چھپانے (جیسے بیماری کی وجہ سے بال جھڑ جانا) کی غرض سے ہو تو بعض اہلِ علم نے اس کی گنجائش ذکر کی ہے۔تاہم بالوں کی ایکسٹینشن کےبعدچونکہ وضوء وغسل میں طہارت کامسئلہ بھی درپیش ہوتاہے اورمارکیٹ میں ایکسٹینشن کے مختلف طریقے رائج ہیں(کلپ اِن ، ٹیپ اِن ، مائیکرو لنکس ، فیوژن ، ویو وغیرہ) ،اس لیے جوبھی طریقہ اختیارکیاجائے اس میں حصول طہارت کاحکم شرعی معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کرنالازم وضروری ہوگا۔
كما فی تكملة فتح الملهم: وقد اختلف العلماء فی التفصیل هذا الحكم علی اقوال الثانی الوصل بشعر الادمی حرام كذالك شعر نجس من غیر الادمی وأما الشعر الطاہر من غیر الأدمی فیجوز الوصل (إلی قوله) والذی یظهر من كتب الحنفیة أن الراجح عندهم القول الثانی. اهـ (ج۴، ص۱۹۱)-