گناہ و ناجائز

ناجائز حمل کو گرانے کا حکم

فتوی نمبر :
89848
| تاریخ :
2025-12-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ناجائز حمل کو گرانے کا حکم

السلام علیکم! گزارش یہ ہے کہ میری بیٹی کسی کو پسند کرتی تھی، اور اس کے ساتھ غلط ہوگیا، اور اب وہ حاملہ ہے۔ اور اس کے سات ماہ ہوگئے ہیں۔ اور میں بہت پریشان ہوں۔ میں جوائن فیملی میں رہتی ہوں، ابھی گھر میں کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ اس کا آپریشن ہوجائے اور دنیا میں بچہ صحیح سلامت آجائے۔ لڑکی کی عزت کا سوال ہے، آپ کی مدد چاہیئے اور مجھے آپ کا فتویٰ چاہیئے، اور میں چاہتی ہوں کہ آپ کے فتوے کا بیان لوں تاکہ میں ڈاکٹر کو دکھا کر ان کا آپریشن کرواسکوں۔ براہِ مہربانی میری اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سات ماہ کے حمل کے ساتھ صرف گناہ چھپانے یا بدنامی کے خوف سےبچے کی ولادت جلدی کروانا شرعاًجائز نہیں،کیونکہ اس سے زچہ وبچہ دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے،اورشریعت میں انسانی جان کاتحفظ اوراس کوہرقسم کے ضررسے بچانالازم وضروری ہے۔البتہ اگرکوئی ماہر معالج ظنِ غالب کی بنیاد پر یہ رائے دے کہ سات ماہ میں بچے کی ولادت (چاہے نارمل ہو یا آپریشن کے ذریعے)،زچہ و بچہ کے لیے کسی جانی نقصان یاشدیدخطرےکاباعث نہیں ہوگی،تو ایسی صورت میں سات ماہ میں ڈیلیوری کی گنجائش ہوگی۔جبکہ سائلہ کی بیٹی پرلازم ہے کہ اس سے جوگناہ سرزدہواہے، اس پربصدق ِدل توبہ واستغفارکرے اورچونکہ آنے والی جان (بچہ/بچی) کاکوئی قصورنہیں، چنانچہ اگرممکن ہوتوجس لڑکے کے ملاپ سے یہ حمل قرارپایاہے، جلدازجلد اس سے عقدِنکاح کی ترتیب بنالی جائے تاکہ اس بچے کوعزت وشرف حاصل ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنھا، وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشھر ولو بلا إذن الزوج الخ۔
وفی الشامیۃ تحت : (قوله وقالوا یباح إلخ) قال في النھر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنھم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فھو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقھم يفيد عدم توقف جواز إسقاطھا قبل المدة المذكورة على إذن الزوج۔ وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقھا إثم هنا إذا سقط بغير عذرها الخ۔ (کتاب النکاح، مطلب فی حکم العزل، ج 3، ص176،ط: سعید)۔
وفیھا أیضاً: وفیھا أیضاً: ویکره أن تسعی لإسقاط حملھا، وجاز لعذر حیث لایتصور(إلی قولہ)(قوله: ویکره الخ) أي مطلقًا قبل التصور و بعد علی ما اختاره في الخانیة کما قد مناه قبیل الا ستبراء، وقال: إلا أنّھا لاتأثم إثم القتل۔ (قوله: وجاز لعذر) کالمرضعة إذا ظھربه الحبل وانقطع لبنھا ولیس لأب الصبي ما یستأجر به الظئر وخاف هلاك الولد، قالوا: یباح لھا أن تعالج في استنزال الدم مادام الحمل مضغة أو علقة ولم یخلق له عضو، وقدروا تلك المدة بمائة وعشرین یوماً، وجاز؛ لأنّه لیس بآدمي، وفیه صیانة الآدميإلخ۔(كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، فصل في البيع، ج:6 ص:429 ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ : العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية الخ۔ (کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفيه العزل وإسقاط الولد، ج 5، ص 354،ط : ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89848کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات