مباحات

نماز جنازہ کے بعد کھانے کا اعلان کرنا

فتوی نمبر :
89984
| تاریخ :
2025-12-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نماز جنازہ کے بعد کھانے کا اعلان کرنا

کیا نماز جنازہ کے وقت یہ اعلان جائز ہے "کہ آنے والوں کےلئے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے بغیر کھانے کوئی نہ جاۓ "

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر اہل میت کے علاوہ عزیز واقارب یا اہل محلہ نے جنازہ کیلئے آنے والے مہمانوں کی خاطر داری کیلئے ان کو کھانے کا انتظام کیا ہو اور پھر لوگوں کو اطلاع دینے کی غرض سے اس طرح کا اعلان کیا جائے تو یہ بلا شبہ درست ہے اور لوگوں کا کھانا کھالینا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البخاری: عن أبي شريح الكعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (‌من ‌كان ‌يؤمن ‌بالله ‌واليوم ‌الآخر ‌فليكرم ‌ضيفه، جائزته يوم وليلة، والضيافة ثلاثة أيام، فما بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له،(ج:5،ص:2272)
وفی ابی داود: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌كان ‌يؤمن ‌بالله ‌واليوم ‌الآخر ‌فليكرم ‌ضيفه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت.(ج04ص:504)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89984کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات