بخدمت جناب مفتی صاحب!
اگر کوئی آدمی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہے اور اس کی تنخواہ مثلاً چالیس ہزار ہے، باقاعدہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کے تحت انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے رجسٹر میں آدھی تنخواہ کرواتا ہے اور بقیہ آدھی ویسے لیتا ہے، تو کیا انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یہ چوری کے حکم میں داخل ہوگا یا کہ نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں ۔
انکم ٹیکس سے بچنے کا مذکور طرز عمل اگر چہ چوری کے حکم میں تو داخل نہیں، البتہ انکم ٹیکس کا موجودہ نظام اگر ظالمانہ نہ ہو بلکہ اس طرح وصول کی جانے والی رقوم باقاعدہ سرکاری خزانہ میں جمع ہو کر واقعی مصارف میں خرچ کرنے کا اہتمام ہوتا ہو تو اس صورت میں مذکور طرز عمل جھوٹ اور دھو کہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے ۔
ففي مرقاة المصابيح : من غش فليس منا اھ ( ۶/ ۸۴)
و في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا. وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وما يزال الرجل يكذب [ص:1358] ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا» . متفق عليه و في رواية مسلم قال: «إن الصدق بر وإن البر يهدي إلى الجنة. وإن الكذب فجور وإن الفجور يهدي إلى النار» اھ (3/ 1357) واللہ اعلم بالصواب