مباحات

ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم

فتوی نمبر :
90153
| تاریخ :
2025-12-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم

ڈیبٹ کارڈ پر جو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے وہ لینا کیسا ہے؟کیونکہ زیادہ تر وہ ڈسکاؤنٹ بینک والوں کی طرف سے ملتا ہے نہ کہ ریسٹورنٹ والوں کی طرف سے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بینکوں کی طرف سے عام طور پر دو طرح کے کارڈ جاری ہوتے ہے(1) کریڈٹ کارڈ (2)ڈیبٹ کارڈ کریڈیٹ کارڈ کا استعمال چونکہ عام حالت میں شرعاً جائز نہیں ہے اس لئے بغیر کسی عذر کےکریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے البتہ اگر کوئی شخص مجبوری میں کریڈٹ کارڈ استعمال کررہا ہو اور پھر اسے اس کارڈ کے استعمال پرڈسکاونٹ دیا جائے تو کریڈٹ کارڈ کی صورت میں چونکہ کارڈ ہولڈر بینک کا مقروض ہوتا ہے اور بینک قرض خواہ ، اور قرض خواہ کی طرف سے مقروض کو مالی فوائد ملناچونکہ شرعاً ممنوع نہیں اس لئے کریڈٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاونٹ سے مطلقاً(خواہ بینک کی طرف سے ہو یا کسی شاپنگ مال کی طرف سے) مستفید ہونے میں حرج نہیں جبکہ ڈبیٹ کارڈ پر ملنے والی ڈسکاؤنٹ کی دو صورتیں ہیں (1)کبھی تو یہ ڈسکاؤنٹ بینک کی طرف سے دی جاتی ہے،اس لئے کہ بینک اپنے کارڈ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لئے مختلف اداروں اور ریسٹورنٹوں سے معاہدہ کرتی ہے کہ وہ ادارہ اور ریسٹورنٹ اس بینک کے کارڈ کے استعمال پر ڈسکاؤنٹ دے،اور وہ ڈسکاؤنٹ کی رقم مذکور بینک سے وصول کرے یہ صورت چونکہ قرض پر منافع لینے کی ہے اور قرض پر کوئی بھی معروف یا مشروط نفع لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،(2)دوسری صورت یہ ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ اس ادارے اور ریسٹورنٹ کی طرف سے ہو اس صورت میں مختلف ادارے اپنے کسٹمر کی تعدادبڑھانے کی غرض سے مختلف بینکوں سے یہ معاہدہ کرتی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈر اور کارڈ کے حاملین کو یہ پیغام پہنچائے کہ فلاں ادارے کی طرف سے اس بینک کارڈ کے استعمال پر ایک مخصوص فیصد کا ڈسکاؤنٹ ملے گا تو اس صورت میں یہ ادارے کی طرف سے تبرع اور احسان ہے اس لئے اسطرح کاڈسکاؤنٹ کا لینا شرعاً جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار و رد المحتار: وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني. قلت: وهذا هو الموافق لما سيذكره المصنف في أول كتاب الرهن وقال في المنح هناك، وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم. قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصا وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح(ج:5 ،ص:166،مط:ایچ ایم سعید)


وفی بحوث فی قضایا فقھیۃ معا صرہ: وهناك نوع آخر من الجوائز تعطى على استخدام بطاقات الائتمان، والعادة في هذه البطاقات أن حاملها يحصل على نقاط عند كل استخدام له
لتلك البطاقة عند شراء بضاعة، أو خدمة، وإن هذه النقاط تدخر في حسابه عند مصدر البطاقة، فكلما بلغت النقاط حدا معينا، استحق حامل البطاقة جائزة من قبل المصدر، وحكم هذه الجوائز موقوف على معرفة علاقة مصدر البطاقة مع حاملها (إلى قوله) وعلى هذا، وإن مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالا عليه أوّلا، ثم مُقرضا له عندما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المُقرض إلى المستقرِض، فهو تبرعٌ محض، لا قمار فيه ولا ربا، أما القمار: فلأن حامل البطاقة لم يعلِّق شيئا من ماله على خطر، وأما الربا فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض وليس في العكس، فلو أعطى مقرض شيئا للمستقرض، علاوة على القرض، فإنه تبرع محض لا يلزم منه الربا. (ج: 2، ص: 164، ط: دار العلوم كراتشي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90153کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات