حکومت پنجاب نے آوارہ کتوں کو مارنے کا آڈر دے دیا ہے، اکثر کتے تو آوارہ ہوتے ہیں، مگر نقصان کسی کو بھی نہیں پہنچاتے اور بعض کاٹ بھی لیتے ہیں، اکثر لوگ گھر میں رکھتےہیں، کیا گھر میں رکھنا جائز ہے؟ان کو مارنے کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں مفتیان کرام ۔
واضح ہو کہ کسی غیر ضرر رساں جانور کو بلا وجہ قتل کرنا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر کوئی جانور ضرر رساں ہو تو اس کے ضرر سے بچنے کیلئے اس کو قتل کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ،لہذا اگر مذکورہ آوارہ کتے انسانی آبادی میں نقصان کا باعث بن رہے ہوں اور ان کی تکلیف و ضرر سے بچنے کیلئے قتل کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو انہیں قتل کیا جاسکتا ہے ،مگر اسکے لیے بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے انہیں کم سے کم تکلیف ہو ۔
کما في صحيح المسلم عن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار لا هي أطعمتها وسقتها، إذ حبستها، ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض» اهـ ( ج 4 ص : 1760)
وفي مشكاة المصابيح وعن عائشة - رضي الله عنها - عن النبي - صلى الله عليه وسلم قال: " «خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الحية، والغراب الأبقع والفأرة، والكلب العقور والحديا» اهـ (ج: 2 ص 68)
وفي الفتاوى الهندية الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري اهـ ( 5 ص : 361)