مباحات

بغیر اجازت کسی کا وائی فائی استعمال کرنے کاکفارہ

فتوی نمبر :
90333
| تاریخ :
2025-12-28
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بغیر اجازت کسی کا وائی فائی استعمال کرنے کاکفارہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، محترم مفتی صاحب دو سوالات ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرما دیجیے:
1: پہلا سوال . میرے بھائی نے کچھ عرصہ پہلے ایک سافٹ ویئر کے ذریعے پڑوسیوں کا Wi-Fi پاس ورڈ معلوم کر کے انٹرنیٹ استعمال کیا۔اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ عمل غلط تھا اور ہم اس کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ہم نے کوشش کی کہ پته چل سکے کہ یہ Wi-Fi کس کا تھا، مگر پته نہ لگ سکا۔سوال: ایسی صورت میں اس غلطی کا معاوضہ یا کفارہ شریعت کے مطابق کیسے ادا کیا جائے؟
2: دوسرا سوال . اکثر بیویاں اپنے شوہروں سے یہ کہہ دیتی ہیں کہ: "اگر اللہ آپ کو جنت دے تو وہاں حور نہ لیجئے گا۔" اگر شوہر بیوی کی ناراضی اور جھگڑے سے بچنے کے لیے صرف اتنا کہہ دے: "اچھا ٹھیک ہے وعدہ ہے" یا کوئی ملتا جلتا ہلکا جواب ، تو بعد میں جب جنت کا تذکرہ ہوتا ہے تو وسوسے آتے ہیں کہ شاید اس جملے کی وجہ سے: اللہ تعالیٰ مجھے جنت کی حور سے محروم نہ کر دیں حالانکہ میں نے توبہ بھی کر لی ہے اور پکا عزم بھی کر لیا ہے کہ آئندہ یہ لفظ بیوی سے نہیں کہوں گا۔سوال: ان وسوسوں کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ کہ تم نے جو بولا اُس کی وجہ سے اللہ جنت کی حور سے محروم نہ کر دیں- ایسے وسوسوں کی کوئی حقیقت ہے — یا یہ صرف شیطانی خیالات ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل اور اس کے بھائی نے جس شخص کا نیٹ بلا اجازت استعمال کیا ہے، اگر کوشش کے باوجود اس شخص کا علم نہ ہو سکے تو غالب اندازے کے مطابق استعمال شدہ انٹرنیٹ کی قیمت مالک کی جانب سے کسی مستحق کو صدقہ کر دے،اور سابقہ فعل پر بصدق دل توبہ اور استغفار اور آئندہ کے لیے اس طرز عمل سے مکمل اجتناب کرے۔
جبكہ حورعین جنت میں متقین مومنین کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایک خاص نعمت ہوگی،نیز جنت میں داخل ہو جانے کے بعد دنیاوی زندگی میں پائے جانے والے بغض حسد وغیرہ جیسی خرابیاں موجود نہ ہو گی، اس لیے سائل کی بیوی کا بطور حسد سائل سے جنت کی حور نہ لینے کا وعدہ لینا اور سائل کا یہ وعدہ کرنا اگرچہ غلط تھا، لیکن محض اس وعدہ کی وجہ سے جنت میں داخل ہونے کے بعد سائل اس نعمت سے محروم نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إلَى الْحُكَّامِ} (البقرة: 188)
وقال أيضا: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ . فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ . يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَقَابِلِينَ . كَذَلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ ) الدخان/ 51 - 54 ،
وقال أيضا: كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ . مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ (الطور/ 19 ، 20)
وقال أيضا: وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلاًّ ظَلِيلاً (النساء/ 57)
وقال أيضا : وَحُورٌ عِينٌ . كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ . جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الواقعة/ 22 – 24 )
وفي مصنف عبد الرزاق في حديث طويل: عن يزيد بن شجرة قال... وزُيِّن حور العين، فاطلعن فإذا هو أقبل قلن: اللهم انصره، وإذا هو أدبر احتجبن منه، وقلن: اللهم اغفر له، فانهكوا وجوه القوم، فدى لكم أبي وأمي، ولا تخزوا الحور العين. (باب فضل الجهاد، ج: 5، ص: 499، الرقم: 10370، ط: دار التأصيل)
وفي مسند أحمد: عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه... ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ إلا بطيب نفس منه. (حديث أبي حرة الرقاشي، ج: 34، ص: 299، الرقم: 20695، ط: مؤسسة الرسالة)
وفي الدر المختار: (عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم.اهـ (كتاب اللقطة، ج: 4، ص: 283، ط: ايج ايم سعيد)
وفي مجمع الأنهر: وفي التنوير من عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله ويسقط عنه المطالبة في العقبى.اهـ (كتاب اللقطة، ج: 1، ص: 709، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90333کی تصدیق کریں
0     95
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات