اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کرکے جو ماہانہ منافع ملتا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟
اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ کا کاروبار اور اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ،تاہم اگر اس کےتمام معاملات مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی سر انجام دئے جاتے ہوں، اور ان کا عملی طریقہ کار بھی شرعی ضابطوں کے عین مطابق ہو ،تو اس صورت میں سیونگ سرٹیفیکیٹ پر جو نفع حاصل ہو رہا ہے ،اس کے استعمال میں لانے کی گنجائش ہوگی ورنہ نہیں۔
کما فی الھدایۃ:المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر اھ(کتاب المضاربۃ،ج:3،ص:262،ناشر:رحمانیۃ)
وفی شرح المجلۃ:المضاربۃنوع شرکۃ علیٰ ان راس المال من طرف واحد والسعی والعمل من طرف آخر الخ(کتاب المضاربۃ،ج:4،ص:325،المادۃ:1404،ناشر:رشیدیہ)