مباحات

اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
90784
| تاریخ :
2026-01-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ کی آمدن کا حکم

اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کرکے جو ماہانہ منافع ملتا ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلامک سیونگ سرٹیفیکیٹ کا کاروبار اور اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ،تاہم اگر اس کےتمام معاملات مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی سر انجام دئے جاتے ہوں، اور ان کا عملی طریقہ کار بھی شرعی ضابطوں کے عین مطابق ہو ،تو اس صورت میں سیونگ سرٹیفیکیٹ پر جو نفع حاصل ہو رہا ہے ،اس کے استعمال میں لانے کی گنجائش ہوگی ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ:المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر اھ(کتاب المضاربۃ،ج:3،ص:262،ناشر:رحمانیۃ)
وفی شرح المجلۃ:المضاربۃنوع شرکۃ علیٰ ان راس المال من طرف واحد والسعی والعمل من طرف آخر الخ(کتاب المضاربۃ،ج:4،ص:325،المادۃ:1404،ناشر:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90784کی تصدیق کریں
0     79
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات