مباحات

آوارہ کتو ں کو زہر دیکر مارنے کا حکم

فتوی نمبر :
90827
| تاریخ :
2026-01-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آوارہ کتو ں کو زہر دیکر مارنے کا حکم

میں بحریہ راولپنڈی میں رہتا ہوں اور یہاں پر بہت سارے جنگلی کتے ہیں جو رات بھر بھونکتے ہیں اور سونے نہیں دیتے اور آتے ہوئے لوگوں کو بھی پڑتے ہیں ،ہم نے کئی دفعہ کمپلین کی ہے لیکن کوئی عمل نہیں کرتا کیا میں ان کتوں کو زہر دے کر مار سکتا ہوں؟ بہت تنگ کیا ہوا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بلا وجہ کسی کتے کو مارنا درست نہیں ، البتہ اگر کتا ضرر رساں ہو اور لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہو اور اسے مارے بغیر اس کے ضرر اور تکلیف سے بچنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں مجبوری کی حالت میں ایسے کتے کو مارنا جائز ہے ، تاہم مارنے کے لیے ایسا طریقہ اپنا یا جائے جس میں اذیت کم سے کم ہو ، لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے بیان کردہ کیفیت کے مطابق اگر کتے ایسے ہوں جو آتے جاتے لوگوں پر پڑتے ہوں اور لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہوں اور ان سے چھٹکارا پانے کا کوئی اور ممکن طریقہ بھی نہ ہو تو ایسے کتوں کو زہر دیکر مارنے کی گنجائش ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم: الحية والغراب الأبقع والفأرة والكلب العقور والحديا "(‌‌باب المحرم يجتنب الصيد،الفصل الاوّل، رقم الحديث: ٢٦٩٩، مط: مكتب الاسلامي بيروت، )
وفي مرقاة المفاتيح تحت قوله: (فواسق) أي: مؤذيات (الى قوله) وهو جمع فاسقة، وأراد بفسقهن خبثهن وكثرة الضرر منهن، اه(باب المحرم يجتنب الصيد،الفصل الاوّل، ج: ٥، ص: ٥٨٤،مط: حقانية)
وفي الدرالمختار مع التنوير الابصار: يجوز (فصد البهائم وكيها وكل علاج فيه منفعة لها وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة) تضر،اه(مسائل شتى، ج: ٦، ص: ٧٥٢، مط: سعيد)
وفي الهندية: ولو كان لرجل ‌كلب عقور يؤذي من مر به، فلأهل البلد أن يقتلوه، وإن أتلف يجب على صاحبه الضمان،اه (كتاب الجنايات، الباب الثاني عشر في جنايات البهائم،ج: ٦،ص: ٥٣، مط: ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90827کی تصدیق کریں
0     76
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات