میں ا ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور میرے پاس خواتین اکثر حمل ضائع کروانے کے لیے آتی ہیں، جن کے مدت دو ماہ سے چار ماہ اور کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے جو مختلف مسائل کی وجہ سے حمل ضائع کروانا چاہتی ہیں، کیا یہ ابارشن کرنا جائز ہے؟ اگر کسی کا ناجائز حمل ہو تو اس کو ا بارشن کرنا کب تک جائز ہے؟
واضح ہو کہ اگر کسی حمل سے عورت کی جان کو خطرہ ہو یا کسی قسم کی ضررو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو ، اور کوئی ماہر مسلمان ڈاکٹر اس کی تصدیق بھی کرتا ہو تو ان اعذار کی بناء پر حمل میں روح پڑجانے سے پہلے پہلے(جس کی مدت چار ماہ ہے) اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، اور چار ماہ پورا ہونے کے بعد کسی صورت میں بھی حمل گرانا جائز نہیں ،لہذا سائلہ کو چاہئے کہ اگر آنے والی حاملہ خاتون کو اوپر بیان کئے گئے اصول کی روشنی میں اسقاط حمل کی اجازت ہو تو اسکا ابارشن کردے وگرنہ اس سے احتراز چاہئے ۔
کما فی الدر المختار: و یکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور"وفی الرد تحت قوله (ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك اھ(کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع ج:6،ص:429، ،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان.:العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز اھ (الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات، ج:5،ص:356، ،مط:مکتبہ ماجدیہ)