میں اپنی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے چہرے کی ورزش کر رہی ہوں، ناک اور ہونٹوں کو پتلا بنا رہی ہوں، اور مجھے نتائج مل رہے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں یہ حلال ہے یا حرام؟ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کون سی ورزش کر رہی ہے اور نہ ہی ناک اور ہونٹوں کو پتلا بنانے کی تفصیل ذکر کی، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر یہ ورزش دیگر عام ورزشوں کی طرح جسمانی حرکت والے عمل پر مشتمل ہو باقاعدہ آپریشن وغیرہ کی طرح سرجیکل نوعیت کی تبدیلی اپنے اعضا میں نہ لائی جاتی ہو تو شرعا اس میں حرج نہیں۔
کما فی تکملہ فتح المہم : وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً. والثاني: ماليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التهلي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... ( قبیل کتاب الرؤیا،ج:4، ص:435،ط: مكتبة دارالعلوم کراچی)