مباحات

بریلوری رشتہ دار کو دعوت میں بلانا

فتوی نمبر :
91928
| تاریخ :
2026-02-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بریلوری رشتہ دار کو دعوت میں بلانا

‎ ہمارے قریبی رشتہ دار (خالہ) کی شادی ایک بریلوی سے ہوئی ہے ، ‎ ہمارے گھر ہر سال رشتہ داروں کی دعوت ہوتی ہے کہ رشتہ داری جوڑنا شریعت میں اہمیت کا حامل ہے۔ ‎اب ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا بریلوی رشتہ دار کو  دعوت کیلیے مدعو کیا جاے ؟ ن کے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں؟ جو وہ ہر سال لاتے ہیں (وہ بیرون ملک رہتے ہیں) یا لاعلمی میں ہم نے ان کی مدد سے کچھ منگوایا تھا، ‎چونکہ مجھے خالہ نے کچھ عرصہ پالا ہے، تو وہ جب بھی آتی ہیں، میری روز مرہ کی  چند چیزیں وہ اپنی ذاتی کمائی سے میرے لیے لیتی ہیں، اور باوجود کوشش کے وہ میری رقم قبول نہیں کرتی ، ان چیزوں کو استعمال کیا جاے؟ ‎ اس  معاملے   کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کی خالہ کا شوہر اگر شرکیہ عقائد ونظریات کا حامل نہ ہو، بلکہ محض بدعت کا مرتکب ہو تو اىسی صورت میں مذكور امور ىعنى اسے دعوت پر مدعو کرنے اور تحائف قبول کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، جبکہ خالہ اپنی حلال کمائى سے جو چیز سائلہ کے لیے بطور تحفہ لا کر دے تو اس کے قبول کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة وكل من كان من قبلتنا (لا يكفر بها) حتى الخوارج الذين يستحلون دماءنا وأموالنا وسب الرسول، وينكرون صفاته تعالى وجواز رؤيته لكونه عن تأويل وشبهة بدليل قبول شهادتهم، إلا الخطابية ومنا من كفرهم (وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن الله تعالى جسم كالأجسام.اهـ [كتاب الصلاة، باب الامامة، ج:1 ص: 560 ط: سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.اهـ [كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5 ص:343 ط: رشيدية)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91928کی تصدیق کریں
1     57
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات