اگر شیعہ پڑوسی ہو تو بات چیت کر سکتے ہیں ؟
پڑوسی ہونے کی حیثیت سے اگرچہ اس کا خیال رکھنا اور بقدر ضرورت بات چیت کرنا جائز ہے، مگر گستاخِ صحابہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا حمیتِ اسلامی کے خلاف ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
وفی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدہ عائشۃؓ او انکر صحبۃ الصدیقؓ او اعتقد الالوہیۃ فی علیؓ او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ (ج۴، ص۲۳۷)-
وفیہ ایضًا: ولا یخفی ان قولہ یا رافضی بمنزلۃ یا کافر او یا مبتدع فیعذر لان الرافضی کافر ان کان یسب الشیخین، ومبتدع ان فضل علیًا علیہما من غیر سبب۔ (ج۴، ص۷۰)-