مباحات

شیعہ پڑوسی سے بات چیت کرسکتے ہیں یا نہیں؟

فتوی نمبر :
91988
| تاریخ :
2026-02-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

شیعہ پڑوسی سے بات چیت کرسکتے ہیں یا نہیں؟

اگر شیعہ پڑوسی ہو تو بات چیت کر سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پڑوسی ہونے کی حیثیت سے اگرچہ اس کا خیال رکھنا اور بقدر ضرورت بات چیت کرنا جائز ہے، مگر گستاخِ صحابہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا حمیتِ اسلامی کے خلاف ہے جس سے احتراز لازم ہے۔


مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدہ عائشۃؓ او انکر صحبۃ الصدیقؓ او اعتقد الالوہیۃ فی علیؓ او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ (ج۴، ص۲۳۷)-
وفیہ ایضًا: ولا یخفی ان قولہ یا رافضی بمنزلۃ یا کافر او یا مبتدع فیعذر لان الرافضی کافر ان کان یسب الشیخین، ومبتدع ان فضل علیًا علیہما من غیر سبب۔ (ج۴، ص۷۰)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91988کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات