مرنے کے بعد شوہر بیوی کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں یا بیوی شوہر کے چہرے کو دیکھ سکتی ہے؟
واضح ہوکہ شوہر کے لیے بیوی کے انتقال کے بعد اس کا چہرہ دیکھنا تو جائز ہے، البتہ غسل دینے اور کفن دفن کے لیے اسے چھونے کی اجازت نہیں ، جبکہ بیوہ کے لئے شوہر کے انتقال کے بعد اسے دیکھنااور چھونا جائز ہے۔
کما فی الدر: (ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية. وقالت الأئمة الثلاثة: يجوز لأن عليا غسل فاطمة رضي الله عنها. قلنا: هذا محمول على بقاء الزوجية لقوله عليه الصلاة والسلام «كل سبب ونسب ينقطع بالموت إلا سببي ونسبي» مع أن بعض الصحابة أنكر عليه شرح المجمع للعيني (وهي لا تمنع من ذلك) الخ۔ (باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 198، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ويجوز للمرأة أن تغسل زوجها إذا لم يحدث بعد موته ما يوجب البينونة من تقبيل ابن زوجها أو أبيه وإن حدث ذلك بعد موته لم يجز لها غسله وأما هو فلا يغسلها عندنا، كذا في السراج الوهاج الخ۔ (الفصل الثاني في غسل الميت، ص: 160، ج: 1، ط؛: ماجدیۃ)۔