مفتی صاحب! اگر کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ نہ ہو اور وہ سحری کرے اور بوقتِ اذانِ فجر پانی بھی پی لے، لیکن اس کا ارادہ نہ ہو تو کیا روزہ ہو گا؟ کیا سب کو بتانا ضروری ہوگا کہ آج میں نے روزہ نہیں رکھنا یا رکھ لیا ہے؟
سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ سائلہ کو فجر کی اذان کے وقت پانی پی لینے کی وجہ سے روزہ ادا ہونے نہ ہونے کے متعلق معلوم کرنا ہے یا کفارہ لازم ہونے کے متعلق سائلہ کا سوال ہے ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر کسی شخص کا زوزہ رکھنے کا ارادہ اور نیت ہی نہ ہو ( اگرچہ اس نے سحری کرلی ہو) یا روزہ رکھنے کی نیت تو ہو لیکن فجر کی اذان کے وقت ( صبح صادق طلوع ہونے کے بعد ) اس نے غلطی سے پانی پی لیا ہو، تو اس کا روزہ اداء نہ ہوگا، ایسی صورت میں اس کے ذمہ اس دن کے روزے کی قضاء لازم اور ضروری ہوگی۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: بأن يعزم ليلا على الفطر) فلو عزم عليه ثم أصبح وأمسك ولم ينو الصوم لا يصير صائما تتارخانية ( سبب صوم رمضان، ج: 2، ص: 370، سعید )
وفی الدر المحتار: (ويحتاج صوم كل يوم من رمضان إلى نية) ولو صحيحا مقيما تمييزا للعبادة عن العادة ( سبب صوم رمضان، ج: 2، ص: 379، ط: سعید )
وفی تحفۃ الفقھاء: إنما التسحر سنة في حق الصائم على ما روي عن عمرو بن العاص عن النبي عليه السلام أنه قال إن فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر ( مسئلۃ النذر، ج: 1، ص: 365، ط: بیروت)