بسم الله الرحمن الرحیم ، السلام علیکم ، کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ زید ایک کمپنی میں کام کرتا ہے اور اس کمپنی کے مالکان حکومت وقت کے ساتھ بہت سے ٹیکس فراڈ میں ملوث ہیں اور اپنے بزنس کے ٹیکس بچانے کے لئے بہت سے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے ناصرف ٹیکس چوری واضح ہوتی ہے اور کمپنی کے دیگر معاملات میں حکومت وقت کے رائج قوانین سے رو گردانی کی جاتی ہے جیسے کم سے کم اجرت کا قانون، مقررہ عمر سے کم عمر بچے اور بچیوں سے کام کروانا، مقررہ وقت سے زیادہ وقت کام کر وانا ، لیکن ان اوقات کی کوئی اجرت نہیں دی جاتی. . میرے آپ سے تین سوال یہ ہیں کہ سوال نمبر ایک :کسی ایسی کمپنی میں کام کرناشر عی طور پر کیسا ہے ؟ سوال نمبر دو : اگر حکومت وقت ایسی کسی کمپنی کے ٹیکس گوشواروں میں شبہات کا اظہار کرے تو کیا اس کمپنی کے کاروباری راز جن میں ٹیکس چوری اور مندرجہ بالا حالات شامل ہوں تو حکومت وقت یا احکام بالا کو بتانے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ آیا کیا ملازمین کو حکومت وقت کو سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہیے یا نہیں ؟ سوال نمبر تین : مجبوری اور حالات کی وجہ سے جو ملازم ایسی کمپنی میں کام کرتے ہوں اور ان تمام مندرجہ بالا جرائم میں معاونت کرتے ہوں تو ان ملازمین کی کمائی حلال ہو گی یا حرام جبکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ کمپنی بہت سے مالی افرادی ملاوٹ اورٹیکس چوری میں ملوث ہے۔
اگر کسی کمپنی کا اصل کاروبار جائز ہو، لیکن اس کے مالکان ٹیکس چوری، سرکاری قوانین کی خلاف ورزی، ملازمین پر ظلم یا دیگر ناجائز امور میں ملوث ہوں، تو ان ناجائز کاموں کا وبال انہی پر ہوگا۔ ایسی کمپنی میں ملازمت کرنے والے شخص کا اپنا کام اگر جائز نوعیت کا ہو اور وہ براہِ راست جھوٹ، جعل سازی، ٹیکس فراڈ یا ظلم میں معاونت نہ کرتا ہو، تو اس کی ملازمت اور تنخواہ جائز ہوگی، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ آدمی پاکیزہ اور شبہ سے خالی روزگار اختیار کرنے کی کوشش کرے۔
البتہ اگر ملازم خود ناجائز امور میں عملی تعاون کرتا ہو، تو بقدرِ تعاون گناہگار ہوگا۔ نیز اگر حکومت یا متعلقہ ادارہ قانونی تحقیقات کے دوران حقیقت دریافت کرے، تو جھوٹ بولنا یا دھوکہ دینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ بقدرِ ضرورت سچی بات بتائی جاسکتی ہے۔تاہم محض دوسروں کو نقصان پہنچانے، انتقام لینے یا فساد پیدا کرنے کی نیت سے راز افشا کرنا درست نہیں۔جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی القرآن المجید: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ (سورۃ المائدہ، رقم الآیۃ: ٢)
و فی احکام القرآن للجصاص: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالی(ج: ٢، ص: ٣٨١، مط: دار أحياء التراث العربي )
وفی مسند لامام أحمد: عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب " (حديث أبي أمامة الباهلي، ج: ٣٦، ص: ٥٠٤، رقم الحديث: ٢٢١٧٠، مط: مؤسسة الرسالة)
و فی الدرالمختار: «(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية
و فی رد المحتار تحت«قوله وجاز) أي عنده لا عندهما بيع عصير عنب أي معصوره المستخرج منه فلا يكره بيع العنب والكرم منه بلا خلاف، كما في المحيط لكن في بيع الخزانة أن بيع العنب على الخلاف قهستاني (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني»(کتاب الحضر والاباحۃ، فصل فی البیع ، ج: 6، ص: 391، ط: سعید)
وفی الأشباه والنظائر لابن نجیم: إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضیف الحکم إلی المباشر'' (القاعدۃ التاسعۃ عشرۃ ،ص: 135، مط: دارالکتب العلمیۃ)