السلام علیکم۔ میں United Kingdom سے ھوں. یہاں اپنی رقم سے گھر خریدنا بہت مشکل ھے۔ mortgage سے سہولت ھے. Bank بھی اور building societies بھی mortgage دیتی ہیں. mortgage سے گھر لینے پر کیا فتوا ھے. اگر اجازت ھے تو کیا ایک سے زاید گھر mortgage سے جائز ھیں؟ تفصیل سے بیان فرمایئے .
واضح ہو کہ مارگیج کے ذریعہ گھر خریدنے کی صورت میں چونکہ سودی معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسا کرنا بلاشبہ ناجائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ کسی مطلوبہ مکان کی باضابطہ خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بیچ دے اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداءً ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ قسطوں اور ادھار کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی، اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کئے جائے ہو ں، اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز، اور درست ہوگا اس سے خریدار اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ،جبکہ ہمارے علم کے مطابق اکثر ممالک میں سودی بینکوں کے علاؤہ ایسے بینک اور مالیاتی ادارے بھی وجود میں آچکے ہیں جو شریعت کے اصولوں کے مطابق اور علماء وماہرین کی نگرانی میں کام کررہے ہیں ،اس صورت میں ان غیر سودی مالیاتی اداروں سے مورگیج کے متبادل طریقہ کار کے مطابق معاملہ کیا جاسکتا ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و فی شرح النووی: (لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء) هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل،اھ(بَابُ الرِّبَا،ج: 11،ص: 26،مط: دار احیاء التراث)
و فی بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد،اھ(ج: 1،ص: 12،مط: دارالعلوم کراتشی)
و فی رد المحتار: ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد،اھ(كتاب البيوع،ج: 4،ص: 531،مط: دار الفکر)