میرا یہ سوال ہے لڑکی کے نکاح پر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا یا جس نے پالا ہو ،
نکاح تو حقیقی باپ کے نام پڑھایا گیا ہے، اور نکاح نامہ پر جس نے پالا اس کا نام لکھا گیا،
کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟
نکاح کی مجلس میں اگر لڑکی خود موجود ہو یا پرورش کرنے والے شخص کا نام بطور والد ذکر کرنے سے لڑکی کی شناخت اور پہچان ہوجاتی ہوتو ایسی صورت میں اگرچہ نکاح کے وقت لڑکی کے حقیقی والد کا نام نہ لیا گیا ہو تب بھی شرعا نکاح درست منعقد ہوجاتا ہے تاہم کسی لڑکے، لڑکی کو اسکے حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے شخصیت کی طرف منسوب کرنا اور اسکے نکاح نامہ اور دیگر کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام لکھنا چونکہ شرعا ناجائز اور حرام عمل ہے اس لیئے لڑکی کے نکاح نامہ میں ولدیت کے خانے میں اس کے حقیقی والد کا نام ہی لکھنا لازم اور ضروری ہوگا۔
قال اللہ تعالی : وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ (سورۃ الاحزاب آیۃ 4)۔
وفی عمدۃ القاری: عن أبي عثمان عن سعد رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام،
قوله: من ادعى: أي: من انتسب إلى غير أبيه، والحال يعلم أنه غير أبيه، وفي رواية مسلم: من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه، والباقي مثله. قوله: فالجنة عليه حرام: وفي الحديث الآتي: فقد كفر، يعني: إذا استحل لأن الجنة ما حرمت إلا على الكافرين، أو المراد: كفران النعمة وإنكار حق الله وحق أبيه أو هو للتغليظ اھ ( کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ، ج:23، ص: 262، ط: دارالفکر بیروت)