السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !کسی ایسے کافر کی موت پر جس نے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پنہچائی ہوں اور ان پر مظالم کیے ہوں ، مسلمانوں کو خوشی منانا شرعا درست ہے یا نہیں ؟قران اور حدیث اور اسلاف کے واقعات سے مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا
واضح رہے کہ کسی انسان کی موت پر محض اس کی موت کی وجہ سے خوشی منانا اور اسے جشن کا موقع بنانا اسلامی تعلیمات اور اخلاق کے خلاف ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا کافر، محارب یا ظالم ہو جس نے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا ہو، ان کی جان و مال اور دین کو نقصان پہنچایا ہو، تو اس کے مرنے پر اس کے شر و فساد سے نجات حاصل ہونے پر خوش ہونا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا شرعاً جائز ہے۔
اس کی تائید حضرت حضرت ابوقتادہ انصاریؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
" مستريح ومستراح منه "
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: فما المستراح منہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
" العبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب ".
یعنی: بدکار شخص کے مرنے سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور جانور بھی راحت پاتے ہیں۔(مسند أحمد37/ 269 ط الرسالة)
اسی طرح قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ظالم اقوام اور سرکش حکمرانوں کی ہلاکت کا ذکر اہلِ ایمان کے لیے نصرت، نجات اور عبرت کے طور پر فرمایا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی ایسا کافر مسلمانوں کا دشمن اور ان پر مظالم ڈھانے والا ہو، تو اس کی موت پر اس کے ظلم و شر سے نجات ملنے پر خوش ہونا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا جائز ہے، البتہ اس موقع پر غیر شرعی طرزِ عمل، بے ہودہ جشن، گالم گلوچ یا اخلاق و شریعت کے خلاف کوئی حرکت کرنا جائز نہیں۔جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔
کما فی مسند الامام احمد بن حنبل: عن أبي قتادة - المعنى - قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوسا في مجلس إذ مرت جنازة (1)، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مستريح ومستراح منه " قال: فقلنا: يا رسول الله، ما المستريح؟ قال: " العبد المؤمن يستريح من نصب الدنيا وأذاها إلى رحمة الله " قلنا: فما المستراح منه؟ قال: " العبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب (ج:37، ص: 269، ناشر: الرسالۃ)
وفی فتح القدیر: وسجد أبو بكر رضي الله عنه عند فتح اليمامة وقتل مسيلمة، وعمر رضي الله عنه عند فتح اليرموك، وعلي عند رؤية ذي الثدية مقتولا بالنهروان، والحمد لله ولي كل نعمة اھ (باب سجود السھو،ج:1،ص:524، ناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)
وفی مجموع الفتاویٰ:وقد ثبت اتفاق الصحابة على قتالهم وقاتلهم أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه وذكر فيهم سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم المتضمنة لقتالهم وفرح بقتلهم وسجد لله شكرا لما رأى أباهم مقتولا وهو ذو الثدية بخلاف ما جرى يوم الجمل وصفين (القتال فی فتنۃ الکبریٰ،ج:20، ص:395،ناشر: مجمع الملك فهد لطباعة)