میں اپنے خاندانی حالات کی بنیاد پر اپنے وراثتی حقوق کے بارے میں وضاحت چاہتا ہوں۔میری والدہ کی پہلی شادی مسٹر A سے ہوئی تھی، اور اس شادی کے دوران اُن کے ہاں چار بچے پیدا ہوئے۔ میں اُن بچوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔ تاہم، میری پیدائش 1993 میں زنا کے نتیجے میں ہوئی تھی، یعنی مسٹر A میرے حقیقی والد نہیں تھے۔ اس کے باوجود، میری پیدائش کے وقت جبکہ میری والدہ ابھی بھی مسٹر A کے نکاح میں تھیں، انہوں نے مجھے اپنی اولاد کے طور پر قبول کیا۔ میری والدہ اور مسٹر A کے درمیان ہونے والی طلاق کی دستاویز میں بھی میرا نام اُس شادی سے پیدا ہونے والے بچوں میں شامل کیا گیا تھا۔ اور میرے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں ابتدا میں مسٹر A کا نام میرے والد کے طور پر درج تھا۔بعد میں میری والدہ نے اپنی مرضی سے مسٹر A سے طلاق لے لی۔ طلاق کے بعد انہوں نے میرے حقیقی والد، مسٹر N، سے شادی کر لی۔ اس شادی کے بعد مسٹر N نے مجھے اپنی اولاد کے طور پر قبول کیا اور مجھے اپنا نام دیا۔ نتیجتاً، میرے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دیگر متعلقہ سرکاری دستاویزات میں بعد میں تبدیلی کر دی گئی، اور مسٹر A کے بجائے مسٹر N کا نام میرے والد کے طور پر درج کر دیا گیا۔لہٰذا، میری زندگی میں دو والدانہ شخصیات شامل ہیں۔ مسٹر A، جو میری پیدائش کے وقت میری والدہ کے قانونی شوہر تھے، انہوں نے مجھے اپنی اولاد کے طور پر تسلیم کیا تھا، اور سرکاری دستاویزات میں اُن کا نام میرے والد کے طور پر موجود تھا ، جیسے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور طلاق کی دستاویز، جس میں شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے نام درج تھے، دوسری طرف، مسٹر N میرے حقیقی والد ہیں، جنہوں نے بعد میں میری والدہ سے شادی کی،اور مجھے باقاعدہ اپنی اولاد کے طور پر قبول کیا، اور اس کے بعد میری سرکاری دستاویزات میں اُن کا نام میرے والد کے طور پر درج کر دیا گیا۔اس وقت مسٹر A اور مسٹر N دونوں وفات پا چکے ہیں، جبکہ میری حقیقی والدہ حیات ہیں۔ میری پیدائش کے حالات، زندگی کے مختلف مراحل میں دونوں افراد کی طرف سے میری نسبت کو قبول کیے جانے، اور میری سرکاری دستاویزات میں کی جانے والی تبدیلیوں کی وجہ سے، میں اپنے قانونی اور وراثتی حقوق کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں۔خاص طور پر، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا مجھے مسٹر A کی وراثت میں کسی قسم کا حق حاصل ہے، جبکہ وہ میرے حقیقی والد نہیں تھے، لیکن انہوں نے میری پیدائش کے وقت مجھے اپنی اولاد کے طور پر تسلیم کیا تھا، اور میرا نام شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے طور پر طلاق کی دستاویز میں درج تھا۔ میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ بعد میں میرے حقیقی والد، مسٹر N، کی طرف سے مجھے اپنی اولاد کے طور پر تسلیم کیے جانے، اور اس کے بعد میرے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور دیگر سرکاری ریکارڈ میں کی جانے والی تبدیلیوں کا میرے وراثتی حقوق پر کیا اثر پڑتا ہے۔چونکہ دونوں والدانہ شخصیات اب وفات پا چکی ہیں اور میری حقیقی والدہ حیات ہیں، اس لیے میں یہ وضاحت چاہتا ہوں کہ آیا ان حالات میں مجھے قانونی یا شرعی طور پر مسٹر A کی وراثت میں کسی حصے کا حق حاصل ہے؟
واضح ہوکہ نکاح ِصحیح کے (کم از کم چھ ماہ) کے بعد اگر عورت کےبطن سےبچےکی پیدائش ہوجائے، نیز شوہر شرعی طریقے سے نفیِ نسب (لعان) بھی نہ کرے، تو "الولد للفراش" کے قاعدہ کےتحت وہ بچہ اسی شوہر کی طرف منسوب ہوگا، خواہ حقیقت میں وہ اس کا حیاتیاتی بیٹا نہ بھی ہو، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی پیدائش پرمسٹر A نے جب نسب کی نفی نہیں کی، تو شرعاً سائل کا نسب مسٹرA ہی سے ثابت ہوگا، اور وہ اس کا شرعی وارث بنے گا،اس کے برعکس مسٹر Nکا بعد میں سائل کو اپنی اولاد قرار دینا یا سرکاری دستاویزات میں اپنا نام والد کے طور پر درج کردینا شرعا ًناجائز اور حرام ہے ، اورنہ ہی اقرار یا سرکاری اندراج کی تبدیلی سےسائل کا اس سے نسب ثابت ہوگا، لہٰذا سائل کے لیےاپنےحقیقی والدمسٹرAکی بجائے خودکومسٹر N کی طرف منسوب کرنےسےاحترازلازم ہے، جبکہ سائل مسٹر N کا شرعی وارث بھی نہیں بنےگا۔
کما فی قولہ تعالٰی: وما جعل أدعياءكم أبناءكم ذلكم قولكم بأفواهكم والله يقول الحق وهو يهدي السبيل ۔ (الاحزاب:الآیۃ،4)ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ۔ (الاحزاب:الآیۃ،5)
و فی صحیح البخاری: عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام) (باب من ادعی إلی غیر أبیہ، ج:4، ص:2972، رقم:6766، م:البشرٰی)۔
وفي الشامية: (قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل رحمتي اھ ( باب الحضانۃ، ج:3، ص:555، م:سعید)۔
وفيھا ایضاً: (تحت قوله: على أربع مراتب): ضعيف: وهو فراش الأمة لا يثبت النسب فيه إلا بالدعوة. ومتوسط: وهو فراش أم الولد، فإنه يثبت فيه بلا دعوة، لكنه ينتفي بالنفي. وقوي: وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي إلا باللعان.الخ(مطلب: الفراش على أربع مراتب،ج:3،ص:550،م:سعید)۔
وفی الھندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير دعوة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط الخ ( الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب،ج: 1، ص:536، م:ماجدیۃ)۔
وفي الھدایۃ: وإذا تزوج الرجل فجاء ت بولد لأقل من ستۃ أشھر منذ یوم تزوجھا لم یثبت نسبہ لأن العلوق سابق علی النکاح فلا یکون منہ و إن جاء ت بہ لستۃ أشھر فصاعدا، یثبت نسبہ منہ، اعترف بہ الزوج أو سکت، لأن الفراش قائم والمدۃ تامۃ۔ اھ(باب ثبوت النسب،ج:2،ص:437،ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی المبسوط: ثم النسب إنما يثبت باعتبار الفراش القائم بمنزلة ما لو أقر الزوج بولادتها وقال ليس الولد مني يثبت النسب بالفراش القائم ولا ينتفي إلا باللعان.اھ(باب العدة وخروج المرأة من بيتها،ج:6،ص:50،ط:دار المرفة)۔