مباحات

بیوی کے رحم میں ڈالنے کیلئے منی ہاتھ سے خارج کرکے دینے کا حکم

فتوی نمبر :
93568
| تاریخ :
2026-03-28
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بیوی کے رحم میں ڈالنے کیلئے منی ہاتھ سے خارج کرکے دینے کا حکم

السلام علیکم۔ بچہ نہ ہو اور علاج کر رہے ہو ں تو اس کے لئے مرد سے تازہ منی ہسپتال میں نکال کر بیوی میں ڈال رہے ہوں تو کیا مشت زنی کے ذریعے کر سکتے ہیں اور وہ بچہ حلال ہو گا یا نہیں یا ہسپتال میں بیوی کے ذریعے ہی نکالنا ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے یہ بظاہر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی صورت ہے اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے حصولِ اولاد کے جتنے طرق رائج ہیں اُن سب میں سے سخت مجبوری کے تحت صرف ایک طریقہ کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، وہ یہ کہ مادۂ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کر کے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے ، اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی ماہر معالج عورت سے کرایا جائے اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے ۔چنانچہ اگر علاج و معالجے کی غرض سے طبی آلات یا شوہر ہی کے عمل سے شوہر کا مادہ منویہ نکالا جائے تو اس کی گنجائش ہے ،اور اس کی وجہ سے ہونے والا بچہ حلال ہی کہلائے گا تاہم اگر بیوی کے ہاتھ سے مادہ منویہ نکالنے کا کوئی انتظام ہو تو اسی پر عمل کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی کنز العمال:"ما ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لايحل له. "ابن أبي الدنيا عن الهيثم بن مالك الطائي". اھ(الباب الثانی فی انواع الحدود ،ج:5،ص: 314، رقم الحدیث :12994،ط: موسسہ الرسالۃ)
فی الفقہ الإسلامی :هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعا، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي.وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافيا للمستوى الإنساني، ومضارعا للتلقيح في دائرة النبات والحيوان.(باب التلقيح الصناعي،ج:4 ،ص:2649،ط:دار الفکر)
وفی رد المحتار تحت: (قوله: وكذا الاستمناء بالكف)۔۔۔بقي هنا شيء وهو أن علة الإثم هل هي كون ذلك استمتاعا بالجزء كما يفيده الحديث وتقييدهم كونه بالكف ويلحق به ما لو أدخل ذكره بين فخذيه مثلا حتى أمنى، أم هي سفح الماء وتهييج الشهوة في غير محلها بغير عذر كما يفيده قوله وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة إلخ؟ لم أر من صرح بشيء من ذلك والظاهر الأخير لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه ۔اھ((باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب فی حکم الاستمناء بالکف، ج: 2، ص: 399، ط: ایچ ایم سعید)۔)
وفی الرد المحتال تحت:(قوله: وكذا الاستمناء بالكف)۔۔۔ لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه۔ اھ (باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2،ص: 399،ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93568کی تصدیق کریں
0     27
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات