مباحات

بلی پالنے اور بیماری کی وجہ سے اسے باہر پھینکنے کا حکم

فتوی نمبر :
93928
| تاریخ :
2026-04-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بلی پالنے اور بیماری کی وجہ سے اسے باہر پھینکنے کا حکم

گھر میں بلی پالی ہوئی ہے، مگر اس سے پسو ہو گئے ہیں ،گھر میں چھوٹی چھوٹی نومولود بچے ہیں جن کو اس سے تکلیف ہو رہی ہے، تو کیا بلی پالنا جائز ہے، گھر والے کہہ رہے ہیں کہ باہر پھینکیں گے تو ان کی بددعا لگے گی، مگر پیسوں کی وجہ سے پورے جسم میں دانے ہی دانے ہیں ،مگر کوئی سننے کے لیے راضی ہی نہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور بلی کے گھر میں رکھنے کی وجہ سے اگر بچوں اور گھر والوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو، تو اس کو باہر چھوڑنا جائز ہے، شرعاََ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهندية: الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري اھ (الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات. ج: ٥، ص: ٣٦١، ط: ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93928کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات