مباحات

پرندہ کو گھر سے نکالنے اور بیماری آنے کا حکم

فتوی نمبر :
93956
| تاریخ :
2026-04-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

پرندہ کو گھر سے نکالنے اور بیماری آنے کا حکم

السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کے ہمارے فلیٹ کی بالکنی میں جنگلی کبوتر بہت جمع رھتے تھے۔،گندگی بہت ہوتی تھی، ایک دن میں نے سوچےسمجھے بغیر کبوتر مادہ کو عیدگاہ میدان ناظم آباد میں چھوڑ آیا۔ جہاں بہت کبوتر ہوتے ہیں مگر ایک ماہ کے بعد مجھے سزا مل گئی، اور میری ٹانگ کولہے کے پاس سے ٹوٹ گئی ہے، اور میں لاچار بیمار پر بیمار ہوتا جا رہا ہوں ،اگر اس کا کوئی کفارہ ادا ہو سکتا ہے تو بتا دیں، میں بہت بیمار ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ گھر کو گندگی سے پاک کرنے کے لئے سائل کا کبوتر کو مذکور جگہ چھوڑ کر آنا شرعاََ جائز طرز عمل تھا، اس سے سائل گناہ گار نہیں ہوا، اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ لازم ہے، لہذا سائل کا کبوتر کو مذکور جگہ پر چھوڑ دینے کی وجہ سے یہ گمان کرنا کہ اس فعل کی وجہ سے سائل پر مصیبتیں آئی ہیں، درست نہیں، بلکہ اس طرح کے امور اللہ رب العزت کی طرف سے تقدیر کا حصہ سمجھ کر اس پر صبر اور آئندہ کے لئے حفاظت کی دعا کرنی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " «لا طيرة، وخيرها الفأل " قالوا: وما الفأل؟ قال: (الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم) متفق عليه (باب الفأل والطيرة: الفصل الاول. ج: ٢، ص: ٣٩١، ط: قديمى كتب خانه)
وفي مرقاة المفاتيح: وقال شارح: لا يجوز العمل بالطيرة وهي التفاؤل بالطير والتشاؤم بها اھ (باب الفأل والطيرة: الفصل الاول. ج: ٨، ص: ٣٤١، ط: المكتبة الحقانية)
وفي فتح البارى: وأصل التطير أنهم كانوا في الجاهلية يعتمدون على الطير فإذا خرج أحدهم لأمر فإن رأى الطير طار يمنة تيمن به واستمر وإن رآه طار يسرة تشاءم به ورجع وربما كان أحدهم يهيج الطير ليطير فيعتمدها فجاء الشرع بالنهي عن ذلك اھ (قوله باب الطيرة، ج: ١٠، ص: ١٥٨، ط: المكتبة السلفية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93956کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات