السلام علیکم !میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر کا انتقال 17 رجب 2026 کو ہوا تھا صبح کے 12 بجے ،تو میری عدت اسلامی لحاظ سے کس تاریخ کو پوری ہوگی اور ٹائم کیا ہوگا؟
واضح ہوکہ جس عورت کاشوہروفات پاجائے اس پر عدت وفات (یعنی چارماہ دس دن )لازم ہے،اب اگرشوہرکا انتقال اسلامی مہینےکی پہلی تاریخ کو ہواہو تواس پر عدت چارماہ دس دن کےحساب سےگزارنا لازم ہے اور اگرشوہرکا انتقال اسلامی مہینےکی پہلی تاریخ کونہ ہوا ہو ،بلکہ مہینے کی درمیانی کسی بھی تاریخ کو ہوا ہو تو پھر دنوں کے حساب سے پورے ایک سوتیس(130)دن عدت گزارنی ہوگی،لہذاصورت مسئولہ میں سائلہ پر پورے ا یک سوتیس دن کی عدت گزارنی لازم ہےجوکہ موجودہ حساب کے مطابق (13دن رجب ،29دن شعبان ،30 دن رمضان ،29دن شوال ،29دن ذی قعدہ)ا ذی قعدہ 1447ھ کی 29 تاریخ کوصبح بارہ بجے پوری ہوجائےگی۔
کماقال اللہ تعالی ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾(سورۃالبقرة، آیۃ: 234 )
وفی ردالمحتارتحت قوله(وإلا فبالأيام): في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلية وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين. وعندهما يكمل الأول من الأخير وما بينهما بالأهلة، ومدة الإيلاء واليمين - أن لا يكلم فلانا أربعة أشهر -، والإجارة - سنة في وسط الشهر - وسن الرجل - إذا ولد في أثنائه -، وصوم الكفارة إذا شرع فيه وسط على هذا الخلاف اهـ وقدمنا عن المجتبى تأجيل العنين إذا كان في أثناء الشهر فإنه يعتبر بالأيام إجماعا بحر.الخ،(ج: 2، ص: 509، مط: سعید)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولا بها أو لا مسلمة أو كتابية تحت مسلم صغيرة أو كبيرة أو آيسة وزوجها حر أو عبد حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها كذا في فتح القدير. هذه العدة لا تجب إلا في نكاح صحيح كذا في السراج الوهاج. المعتبر عشر ليال وعشرة أيام عند الجمهور كذا في معراج الدراية. ( ج: 1، الباب الثالث عشر في العدة، ص:529، ط: رشيدية)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0