ہمارے علاقے میں معدنیات ہیں، لیکن لوگ آپس میں اتفاق سے فائدہ نہیں اٹھاتے، بلکہ ہر ایک اپنی مرضی سے جاکر مال نکالتا ہے اور بیچتاہے، کوئی نظام نہیں ہے، اس صورتحال میں کیا میرے لئے شرعا جائز ہے کہ میں بھی اپنے لئے نکالوں اور بیچوں ؟
زمین سے معدنیات نکالنے اور بیچنے کا حکم زمین کی نوعیت اور ملکی قوانین کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ اگر زمین ذاتی ملکیت (مملوکہ) ہو تو مالک معدنیات کا حقدار ہے۔ تاہم اگر زمین ذاتی مملوکہ نہ ہو اور قانوناً معدنیات پر حکومت کا حق ہو (جیسے پاکستان میں اکثر معدنیات لائسنس کے بغیر نکالنے كى اجازت نہىں) تو لائسنس کے بغیر نکالنا جائز نہیں۔ لہذا سائل جس جگہ كى بات كررہے ہىں تو اگر وه زمین ذاتی مملوکہ بھى نہ ہو اور حكومت كى طرف سے اس كے نكالنے كى كوئى ممانعت بھى نہ ہو تو اس كو نكالنے كى اجازت ہوگى، ورنہ نہىں۔
كما في ردّالمحتار: أنّ المعدن من توابع الأرض؛ لأنه من أجزائها، وإذا ملكها المختط له بتمليك الإمام ملكها بجميع أجزائها فتنتقل عنه إلى غيره بتوابعها أيضا اهـ (كتاب الزّكاة،باب الرّكاز،ج:3،ص:321 ط: سعيد)
وفي بدائع الصنائع: فأما إذا وجده في أرض مملوكة أو دار أو منزل أو حانوت فلا خلاف في أن الأربعة الأخماس لصاحب الملك وجده هو أو غيره لأن المعدن من توابع الأرض لأنه من أجزائها خلق فيها ومنها اهـ (كتاب الزكاة، فصل حكم المستخرج من الأرض، ج:2 ص:67 ط: سعيد)