خالد نے زید پر ایک کتاب فروخت کیا ایک سو اسی روپے میں ، چند دنوں کے بعد خالد نے واپس زید سے وہ کتاب خریدا ایک سو پچاسی روپے میں اس کے بعد خالد اس کتاب کو دو بارہ عمر پر فروخت کرتا ہے ایک سو نوے روپے میں ، اب سوال یہ ہے کہ خالد کا اس طرح دو بار نفع اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا زید کے لئے خالد سے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز ان کے لئے یہ منافع حلال ہے یا حرام؟
صورت مسئولہ میں اگر یہ تینوں بیع واقعی ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہوں اور باقاعدہ مبیع (کتاب) پر قبضہ کرنے کے بعد آگے بیچی گئی ہو، نیز سودی حیلہ کے طور پر یہ معاملات نہ ہوئے ہوں، تو تینوں معاملات شرعاً جائز ہیں، لہذا خالد کا دونوں مرتبہ اور زید کا ایک مرتبہ نفع اٹھانا بھی شرعاً جائز ہے۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکرر سوال پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کردیں، تو انشاء اللہ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا۔
کما فی الھندیۃ: ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز الخ (3/161)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في صورته وهو ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه منفعة والمعقود عليه من أهل أن يستحق حقا على الغير فالعقد فاسد كذا في الذخيرة.(الی قولہ) ولو اشترى شيئا ليبيعه من البائع فالبيع فاسد الخ (3/134)۔