مباحات

والد کا ایک بیٹے کو ہبہ کیا ہوا گھر کسی اور کو ٹرانسفر کرنا

فتوی نمبر :
94701
| تاریخ :
2026-04-28
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

والد کا ایک بیٹے کو ہبہ کیا ہوا گھر کسی اور کو ٹرانسفر کرنا

والد نے اپنا گھر 2003 میں اپنے بیٹے کو ٹرانسفر کیا اور قبضہ بھی دے دیا ،پھر والد صاحب نے 2004 میں کسی اور کو ٹرانسفر کیا ، کیا والد کے پاس اس کا اختیار ہے کہ وہ بیٹے کو ھبہ کردہ گھر کسی اور کو ٹرانسفر کرے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں شخص مذکور نے اگر واقعۃً اپنا گھر اپنے بیٹے کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ اسے باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا ، تو یہ ہبہ تام ہوچکا تھا اور وہ بیٹا اس گھر کا مالک بن چکا تھا ۔ اور چونکہ والد کے لیے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کرنے کے بعد اسے واپس لینا شرعاً جائز نہیں ہوتا، اس لیے شخص مذکور (والد) کے لئے اپنے بیٹے کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس گھر کو کسی اور کے نام ٹرانسفر کرنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے ۔تاہم اس معاملہ کی نوعیت اگر مختلف ہو تو پوری صورت کی تفصیل لکھ کر مکرر معلوم کرلے ،اس پر غور کرکے حکم شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(ومنها) ما هو في معنى العوض، وهو ثلاثة أنواع: الأول: صلة الرحم المحرم فلا رجوع في الهبة لذي رحم محرم من الواهب وهذا عندنا وقال الشافعي - رحمه الله - يرجع الوالد فيما يهب لولده احتج بما روينا عن النبي - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «لا يحل لواهب أن يرجع في هبته إلا الوالد فيما يهب ولده» وهذا نص في الباب.
(ولنا) ما روينا عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «الواهب أحق بهبته ما لم يثب منها» أي لم يعوض، وصلة الرحم عوض معنى؛ لأن التواصل سبب التناصر والتعاون في الدنيا فيكون وسيلة إلى استيفاء النصرة وسبب الثواب في الدار الآخرة فكان أقوى من المال، وقد روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «اتقوا الله وصلوا الأرحام فإنه أبقى لكم في الدنيا وخير لكم في الدار الآخرة» فدخل تحت النص وروي عن سيدنا عمر - رضي الله عنه - أنه قال: من وهب هبة لصلة رحم أو على وجه صدقة فإنه لا يرجع فيها وهذا نص في الباب والحديث محمول على النهي عن شراء الموهوب لكنه سماه رجوعا مجازا لتصوره بصورة الرجوع كما هنا روي أن سيدنا عمر - رضي الله عنه - تصدق بفرس له على رجل ثم وجده يباع في السوق فأراد أن يشتريه فسأل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن ذلك فقال «لا تعد في صدقتك»
وسيدنا عمر - رضي الله عنه - قصد الشراء لا العود في الصدقة لكن سماه عودا لتصوره بصورة العود، وهو نهي ندب؛ لأن الموهوب له يستحي فيسامحه في ثمنه فيصير كالراجع في بعضه والرجوع مكروه. (ج 6 ص:132 فصل فی حکم الھبۃ)
وفی الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته ج6 ص:200 ط: دار الفكر-بيروت)
وفی درر الحكام شرح مجلة الأحكام : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه (ج1 ص: 85 المادة 96 ط:دار الكتب العلمية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94701کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات