محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے: ہمارے علاقے میں چند افراد مل کر ایک نظام قائم کرتے ہیں، جس کے تحت ہر شخص پر لازم قرار دیا جاتا ہے کہ وہ ہر ماہ ایک معین رقم جمع کروائے۔ یہ رقم باقاعدہ طور پر سب سے لی جاتی ہے اور اس میں کسی حد تک پابندی (یعنی جبراً ادائیگی) بھی ہوتی ہے۔ بعد ازاں جب ان افراد میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو جمع شدہ رقم اس کے گھر کے اخراجات، کفن دفن، اور بعض اوقات خیرات وغیرہ میں خرچ کی جاتی ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ:کیا اس طرح کا نظام شرعاً جائز ہے، جبکہ اس میں ہر فرد پر ماہانہ رقم دینا لازمی قرار دیا گیا ہے؟ براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں، دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کیساتھ تعاون اور تناصر ایک مستحسن عمل ہے، جس کی خوبی کسی پر مخفی نہیں، لہٰذا اگر کسی علاقے کے چند افراد مل کر وقف وغیرہ کی بنیاد پر کوئی فنڈ قائم کریں، اور پھر اس فنڈ سے شرائط و ضوابط کے مطابق فوتگی وغیرہ کے مواقع پر لوگوں کی مدد کریں، تو یہ صرف جائز نہیں، بلکہ شرعاً اور عرفا ایک مستحسن اور اچھا عمل ہے، لہذا مذکور کمیٹی بھی اگر باقاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم ہو جائے ، اس طور پر کہ اس کمیٹی کے ممبران میں سے بعض ممبران کوئی مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک وقف فنڈ قائم کر دیں، اور کمیٹی کے قائم رہتے ہوئے مطلوبہ اخراجات کے لیے اسے استعمال نہ کیا جائے، اس کے بعد کمیٹی میں شامل ہونے والے افراد متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ کے لئے رقم دیتے رہیں، جو کہ مملوک وقف شمار ہو گا، جسے ذکر کردہ شرائط کے تحت ممبر ان کیسا تھ تعاون کے لئے خرچ کیا جائے گا، چنانچہ ایسا کرنے کے بعد مذکور کمیٹی کا طریقہ کار شرعاً درست ہو گا، اور اس کے ممبر بننے میں کوئی قباحت نہیں ہو گی، البتہ اگر بعد میں کسی وقت اس کمیٹی کو ختم کرنا پڑے ، تو اس وقت اصل وقف کردہ رقم کسی ممبر کے لیے لینا، اور اسے استعمال میں لانا جائز نہ ہو گا، بلکہ اسے فقراء پر خرچ کرناضروری ہو گا۔
کما في سنن الترمذي: عن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه و سلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. هذا حديث حسن.(2/312)
و في مرقاة المفاتيح: (و عن عبد الله بن جعفر) أي: ابن أبي طالب. (قال : لما جاء نعي جعفر) (الی قوله) (قال النبي صلى الله عليه و سلم أي: لأهل بيت النبوة. (اصنعوا لآل جعفر طعاما) (الی قوله) والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر و هم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب و الجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. و المراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، و اصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم; لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: و يكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف. (رواه الترمذي) وقال: حسن صحيح نقله ميرك. (وأبو داود، و ابن ماجه) قال ميرك: رواه النسائي (3/1241).
و فی رد المحتار: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه و سلم -”اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم“ حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت.اھ(2/240)۔
و فیه ایضاً: و لما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ. ما في المنح قال الرملي: لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف، وإفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر وأفتى به وما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها وسمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اهـ ملخصا.(4/363)