مباحات

نماز نہ پڑھنے والے مزدوروں کو کام پر رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
94966
| تاریخ :
2026-05-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نماز نہ پڑھنے والے مزدوروں کو کام پر رکھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا ایک انگور کا باغ ہے ،میں باغ کی حفاظت کیلئے ہر سال پھل پکھنے کے موسم میں دس بارہ مزدوروں کو تنخواہ پر رکھتا ہوں ،تاکہ وہ باغ کی حفاظت کریں،اور وہ مزدور اپنے آپکو تو مسلمان کہتے ہیں،(لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ اہل سنت/یا شیعہ/اور یا اہل حدیث کس جماعت سے تعلق رکھتے ہے)مگر نماز نہیں پڑھتے،تو کیا ان کے نماز نہ پڑھنے سے میری کمائی میں بےبرکتی آئیگی؟اور کیا میں انکو زور زبردستی نماز پڑھنے پر مجبور کرسکتا ہوں؟یا میں ان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر نماز پڑھتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں بےنمازی مزدور نہیں رکھتا ہوں،نیز ان مزدوروں کی حوائج ضروریہ (مثلاً ڈاکٹر،خوراک،اور رہائش وغیرہ)تبرعاً میں نے اپنے ذمے لی ہیں،

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سائل کی جانب سے رکھے گئے ملازمین اگر نماز کا اہتمام نہ کرتے ہوں،تو اس بنا پر سائل کی اس باغ سے حاصل کردہ کمائی اگرچہ حرام نہیں ہوگی،مگر بے نمازی کے روحانی اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں،اس لیے سائل کیلئے بہتر یہ ہے کہ ابتداءً ہی ایسے ملازمین کو ملازمت پر رکھنے کا اہتمام کریں،جو نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہوں،تاہم اگر سائل کے ملازمین میں ایسے ملازمین بھی ہوں،جو نمازوں کا اہتمام نہیں کرتے ،تو انہیں ملازمت سے نکالنے کے بجائے حکمت ومصلحت سے نماز کی تلقین کرے،اور اگر سائل کو یہ اندازہ ہو کہ ملازمت سے برخاست کرنے کی دھمکی سے وہ نمازیں پڑھنا شروع کریں گے تو مصلحتاً ایسی دھمکی دینے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ﴾﴿آیۃ: ١٢٥﴾
و فی تفسیر ابن کثیر: اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ، [سورة النحل (16): آية 125] يقول تعالى آمرا رسوله محمدا صلى الله عليه وسلم أن يدعو الخلق إلى الله بالحكمة. قال ابن جرير(3):وهو ما أنزله عليه من الكتاب والسنة {وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ}، أي بما فيه من الزواجر والوقائع بالناس، ذكرهم بها ليحذروا بأس الله تعالى، وقوله: {وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} أي من احتاج منهم إلى مناظرة وجدال فليكن بالوجه الحسن برفق ولين وحسن خطاب،اھ(ج:4،ص: 526،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی لمعات التنقیح: ويروى: من فاتته الصلاة فكأنما وتر أهله وماله، فالظاهر العموم وقد خصه الشيخ، وقيل في معناه: أي: بشؤم ترك الصلاة يهلك أهله وماله اھ(كتاب الصلاة،باب تعجيل الصلاة،ج: 2،ص: 356،مط: دار النوادر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94966کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات