مباحات

قومی موومنٹ بنانے اور اس میں شرکت کا حکم

فتوی نمبر :
95194
| تاریخ :
2026-05-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

قومی موومنٹ بنانے اور اس میں شرکت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل قومی موومنٹ کے نام سے ہر قوم والوں نے اپنی اپنی تنظیمیں بنائی ہے اور اس کی وجہ سے اکثر لوگ اپنی قوم کی بڑائی اور دوسرے قوموں کی کمی بیان کر کےایک قسم کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس کو اپنی قوم کی خدمت سمجھ کر کہتے ہےکہ یہ قوم پسندی ہے قوم پرستی نہیں یہ کیسا ہے ،اور شریعت میں قومیت کی بنیاد کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو تمام انسان ایک ہی والد حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے البتہ ان میں مختلف اقوام اور قبیلوں کی تقسیم فقط ان کی باہمی پہچان کیلئے کی گئی ہےجبکہ فضیلت کا معیار قوم اور خاندانی پس منظر کے بجائے تقویٰ کو قرار دیا ہے،جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ فرمایا ہے(اے لوگوہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکوبیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار (متقی) ہے۔ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے)لہذا کسی بھی قوم کے افراد کا تقویٰ کے بجائے لسانی بنیادوں پر اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں ممتاز کرنا اور اپنی بڑائی بیان کرنا قطعاً نامناسب اور تفرقہ بازی کا سبب ہے، اس لئے کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والے فرد کا یہ طرز عمل اختیار کرنا شرعاً درست نہیں ,اس سے اجتناب ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید: وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَﵞسورۃ الروم،آیۃ نمبر:22)
وفیہ ایضاً: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن ذَكَرٖ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٞﵞ سورۃ الحجرات،آیۃ نمبر 13)
وفی مسند احمد: حدثنا سعيد الجريري، عن أبي نضرة، حدثني من سمع خطبة رسول الله صلى الله عليه وسلم في وسط أيام التشريق فقال: " يا أيها الناس، ألا إن ربكم واحد، وإن أباكم واحد، ألا ‌لا ‌فضل ‌لعربي ‌على ‌عجمي (1)، ولا لعجمي على عربي، ولا أحمر (2) على أسود، ولا أسود على أحمر إلا بالتقوى الخ(‌‌حديث رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،ج:37،ص:474،رقم الحدیث:23489،مط: مؤسسة الرسالة
وفی الملل والنحل لشہرستانی: في بيان تقسيم أهل العالم جملة مرسلة:
1- من الناس من قسم أهل العالم بحسب الأقاليم السبعة. وأعطى أهل كل إقليم حظه من اختلاف الطبائع والأنفس التي تدل عليها الألوان والألسن1.
2- ومنهم من قسمهم بحسب الأقطار الأربعة التي هي: الشرق، والغرب، والجنوب، والشمال. ووفر على كل قطر حقه من اختلاف الطبائع، وتباين الشرائع.
3- ومنهم من قسمهم بحسب الأمم، فقال كبار الأمم أربع: العرب، والعجم، والروم، والهند، ثم زاوج2 بين أمة وأمة؛ فذكر أن العرب والهند يتقاربان على مذهب واحد، وأكثر ميلهم إلى تقرير خواص الأشياء والحكم بأحكام الماهيات3 والحقائق، واستعمال الأمور الروحانية. والروم والعجم يتقاربان على مذهب واحد، وأكثر ميلهم إلى تقرير طبائع الأشياء والحكم بأحكام الكيفيات4 والكميات5، واستعمال الأمور الجسمانية.
4- ومنهم من قسمهم بحسب الآراء والمذاهب. وذلك غرضنا في تأليف هذا الكتاب. وهم منقسمون بالقسمة الصحيحة الأولى إلى أهل الديانات والملل، وأهل الأهواء والنحل. الخ(ج:1،ص:10، مط :مؤسسة الحلبي)
کذا فی جواھر الفقہ،ج:1،ص:44/45/46،مط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95194کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات