مباحات

کسی عذر کی وجہ سے داڑھی کا کچھ حصہ کاٹا جاسکتا ہے؟

فتوی نمبر :
95234
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کسی عذر کی وجہ سے داڑھی کا کچھ حصہ کاٹا جاسکتا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ میری داڑھی بڑی ہے ، لیکن اس میں ایک مسئلہ مجھے درپیش ہے وہ یہ کہ میری داڑھی میں دو مو ہے، بال بہت زیادہ آگے ہے، اور مجھے پتہ چلا ہے کہ اس کا علاج اسے کاٹنا ہے، تو میں کس حد تک کاٹ سکتا ہوں؟ اور دو مو ہے بالوں کی وجہ سے میری داڑھی بھی چھوٹی لگ رہی ہے، جو مجھے پسند نہیں، تو براہ مہربانی مجھے بتادے ، اور اس مسئلے کا حل موجود ہو تو وہ بھی بتادے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایک مٹھی کی حد تک داڑھی رکھنا واجب ہے، اس سے زائد کاٹنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: أو تطويل اللحية إذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة وصرح في النهاية بوجوب قطع ما زاد على القبضة بالضم، ومقتضاه الإثم بتركه لا أن يحمل الوجوب على الثبوت، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، الخ (2/417)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: وصرح في النهاية إلخ) حيث قال وما وراء ذلك يجب قطعه هكذا «عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يأخذ من اللحية من طولها وعرضها الخ (2/417)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
خانزادہ میرام عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95234کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات