مباحات

ٹک ٹاک کی آئی ڈی کی خرید و فروخت کا حکم

فتوی نمبر :
95370
| تاریخ :
2026-05-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ٹک ٹاک کی آئی ڈی کی خرید و فروخت کا حکم

ہم اسلامی ویڈیوں ایڈیٹ کرتے ہیں پھر اسکو ٹک ٹاک پہ ڈالتے ہے تو جب فالور بڑھ جاتے ہیں تو ہم ٹک ٹاک کی آئی ڈی سیل کرتے ہیں ، تو آیا ٹک ٹاک کی یہ آئی ڈی سیل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ صرف سیلنگ کرتے ہیں ایک سے آئی ڈی لیتے ہیں usa uk pakistan اور پھر اس کو usa uk میں سیل کرتے ہے آیا یہ دونوں جائز ہے یا نہیں دونو ں کی تفصیل سے جواب دیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا کی مختلف پلیٹ فارمز پر جو شخص اپنا ذاتی اکاؤنٹ کھولتا ہے،تو وہ پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو چند شرائط کے ساتھ اس کے استعمال کا حق دیتی ہے ، جس میں اس اکاؤنٹ کو کسی دوسرے فرد کو فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کی ممانعت بھی شامل ہے ، جس کی صراحت کمپنی پالیسی میں بھی موجود ہے۔لہٰذا سائل کا اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ دوسروں کو فروخت کرنا چونکہ متعلقہ پلیٹ فارم کی شرائط و ضوابط کے خلاف ہیں، اس لیے شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وفي الأشباه ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض ‌عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف الخ (باب الوقف ج:4 ص:518 ناشر: الحلبی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95370کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات