السلام علیکم، 32 سال کی عمر ہے ۔ تین بچے ہیں ۔ آپریشن سے۔ تیسرا ابھی پانچ ماہ کا ہے اور حمل ٹھر گیا ہے ۔ پانچ ہفتے ہوئے ہیں ۔ بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے ۔ کمزوری کی وجہ سے جسم شدید درد کرتا ہے، ڈاکٹر کے مطابق حمل رکھے کی صورت میں رسک ہے، اس لیے کہ آپریشن کے ٹانکے آخری مہینوں میں جلدی پیدائش کی وجہ بن سکتے ہیں۔مکمل سہولت، گھر کے تمام کام اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی ہو تو اللہ پر توکل کر کے حمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ شوہر سہولت دینے سے انکاری ہے اور بہن الگ رہتی ہے ۔ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ بلاضرورت اسقاطِ حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، تاہم سوال میں ذکرکردہ وضاحت کے مطابق اگر واقعۃً ماہر دیندار ڈاکٹر کے مطابق مذکور حمل جاری رکھنے میں صحت خراب ہونے اور آئندہ زچہ و بچہ کی جان کے اتلاف کا اندیشہ ہو سکتا ہو تو ایسی صورت میں چار ماہ سے پہلے پہلے اس حمل کو ضائع کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
تاہم محض گھریلومصروفیات کی بنیاد پر بلا وجہ کے اندیشوں کے سبب اسقاط حمل سے احتراز چاہئیے۔
كما في الدر المختار: ويكره أن تسعى لإسقاط حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك.اهـ (كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 429، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وإن أسقطت بعد ما استبان خلقه وجبت الغرة كذا في فتاوى قاضي خان. العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز (إلى قوله) امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.اهـ (الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، ج: 5، ص: 356، ط: مكتبة ماجدية)