سوال:
ایک شخص کی ڈیلی ویجز پر نوکری لگی۔ کمپنی کی طرف سے پولیس ویریفکیشن فارم دیا گیا اور کہا گیا کہ اپنے متعلقہ پولیس اسٹیشن سے تصدیق اور مہر لگوا کر لائیں۔
جب وہ پولیس اسٹیشن گیا تو وہاں کے اہلکاروں نے 500 روپے مانگے، حالانکہ اس کام کی کوئی سرکاری فیس نہیں تھی۔ اس شخص نے کہا کہ میرے پاس اس وقت صرف 200 روپے ہیں۔ اس پر اہلکاروں نے کہا کہ باقی رقم بعد میں دے دینا۔ اس شخص نے مجبوری میں کہہ دیا کہ "ٹھیک ہے، بعد میں دے دوں گا۔"
اب سوال یہ ہے کہ چونکہ یہ رقم بظاہر ناجائز طور پر مانگی جا رہی تھی، اس لیے اگر وہ شخص بعد میں یہ رقم ادا نہ کرے تو کیا یہ وعدہ خلافی شمار ہوگی؟ کیا اس پر آخرت میں مؤاخذہ یا گناہ ہوگا؟ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں اگر پولیس اہلکاروں نے ویریفکیشن کے کام کے عوض کوئی سرکاری فیس نہ ہونے کے باوجود رقم کا مطالبہ کیا تھا، تو ان کا یہ مطالبہ شرعاً ناجائز تھا، اور یہ رقم رشوت کے حکم میں داخل ہے۔ ایسی ناجائز رقم لینا اہلکاروں کے لیے جائز نہیں۔
لہٰذا اگر سائل نے محض مجبوری اور کام نکلوانے کے لیے باقی رقم بعد میں دینے کا وعدہ کیا تھا، تو یہ ایسا وعدہ نہیں جس کی شرعاً پابندی لازم ہو؛ کیونکہ ناجائز کام یا ناجائز مطالبہ پورا کرنے کا وعدہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔ اس لیے بعد میں وہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں سائل پر وعدہ خلافی کا گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سلسلے میں آخرت میں مؤاخذہ ہوگا۔
كمافي صحيح البخاري : عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان).»(1/ 21)
وفي شرح البخاري للسفيري = المجالس الوعظية في شرح أحاديث خير البرية» : فالمراد بالوعد في الحديث الوعد بالخير، وأما الشر فيستحب إخلافه. وقد يجب ما لم يترتب على ترك إنفاذه مفسدة.»(2/ 53)