مباحات

عورت کا بیماری کی وجہ سے حمل ساقط کرنا

فتوی نمبر :
96025
| تاریخ :
2026-08-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عورت کا بیماری کی وجہ سے حمل ساقط کرنا

حمل کو 40 دن نہیں ہوئے، شوہر بھی یہ بچہ نہیں چاہتے، مجھے پتے میں پتھری ہے جس سے بہت تکلیف ہوتی ہے، کیا میرے لیے حمل گرانا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں محض شوہرکی عدم رضامندی ( کہ وہ بچہ نہیں چاہتا)کوبنیادبناکراسقاطِ حمل کروانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگرسائلہ کو واقعی پتے کی پتھری کی وجہ سے شدید تکلیف ہو اور ماہر مسلم گائناکالوجسٹ ڈاکٹر معائنہ کےبعدیہ تشخیص کرےکہ حمل جاری رکھنےمیں سائلہ کی صحت کو شدید نقصان یا ناقابلِ برداشت ضرر اورسنگین طبی خطرہ لاحق ہوسکتاہے، تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ کے لیے چار ماہ سے قبل اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے، چار ماہ مکمل ہونے کے بعد کسی بھی حال میں اسقاط شرعاََ جائز نہیں، بلکہ ایک معصوم جان کا قتل ہونے کی بناء پر حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: ‌بقي ‌هل ‌يباح ‌الإسقاط ‌بعد ‌الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح. (مطلب في حكم إسقاط الحمل: ج٣، ص ١٧٦، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96025کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات