السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! مجھے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے، میں گزشتہ 12 سال سے شدید گھبراہٹ (پینک اٹیکس) اور بے چینی (اینزائٹی) کی مریضہ ہوں اور اس کے لیے کافی طاقتور اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال کر رہی ہوں، ڈاکٹر نے پہلے ہی مجھے بتایا تھا کہ اگر حمل کا ارادہ ہو تو ادویات بتدریج چھوڑنی ہوں گی، لیکن ابھی ادویات کم یا بند کرنے کا عمل شروع نہیں ہوا تھا کہ غیر منصوبہ بند حمل ٹھہر گیا۔
اب حمل معلوم ہونے کے بعد ڈاکٹر نے میری ادویات یک دم بند کروا دی ہیں، جس کی وجہ سے میری حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ میرا جسم بری طرح کانپ رہا ہے، کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہتا، کھانا نہیں کھا پا رہی، مسلسل رونا آ رہا ہے، شدید گھبراہٹ ہو رہی ہے، حتیٰ کہ بستر سے اٹھنا اور واش روم جانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس وقت حمل تقریباً 5 ہفتوں کا ہے۔ ایسی صورت میں کیا میں حمل ختم کروا سکتی ہوں؟ کیونکہ نہ تو میں سابقہ ادویات استعمال کر سکتی ہوں اور نہ ہی ان کے بغیر میری حالت سنبھل رہی ہے، براہِ کرم شرعی رہنمائی فرما دیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر مذکور حمل کی وجہ سے سائلہ کو ناقابل برداشت تکلیف ہو اور کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر بھی سائلہ کی حالت کا مکمل تجزیہ کرنے کے بعد اسقاط حمل کا مشورہ دے تو حمل میں جان پڑنے (چار ماہ مکمل ہونے) سے قبل اسقاط کی گنجائش ہے، لیکن چار ماہ کے بعد کسی بھی حال میں اسقاط حمل جائز نہیں، بلکہ گناہ کبیرہ اور ایک معصوم جان کا قتل ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: «مطلب في حكم إسقاط الحمل: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح.» (3/ 176)