مباحات

مخلوط نظامِ تعلیم میں تدریس کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
96757
| تاریخ :
2026-06-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مخلوط نظامِ تعلیم میں تدریس کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
جناب محترم مفتی صاحب
میرا سوال یہ ہے کہ مخلوط نظامِ تعلیم (co-education) کہ جس میں لڑکا اور لڑکی ایک کلاس میں بیٹھتے ہیں اور اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور لڑکیوں کے چہرے پر ماسک یا پردہ ہوتی ہے کیا یہ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں ؟ اور شاگرد کے لئے وہاں تعلیم حاصل کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟
اس لئے کہ شاگرد کا اختیار وہاں چلتا نہیں ہے یہ تو حکومت کے پالیسی ہے اور استاذ کیلئے وہاں تعلیم دینا جائز ہے کہ نہیں؟ اور استاذ کی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام ؟
الغرض مخلوط نظامِ تعلیم (co-education) جائز ہے کہ نہیں؟
بہت مہربانی
جزاک اللّٰہ خیرا ً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں بالغ یا قریب البلوغ لڑکوں اور لڑکیوں کا بلا ضرورت مخلوط تعلیمی نظام، جس میں وہ ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرتے ہوں، شرعاً درست نہیں؛ کیونکہ یہ اختلاط، بے پردگی، نظر کے فتنے اور دیگر شرعی مفاسد کا سبب بنتا ہے۔ اس لئے حکومت اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ و طالبات کے لئے الگ اور شرعی تقاضوں کے مطابق تعلیمی نظام قائم کریں۔ لہٰذا جہاں غیر مخلوط اور شرعی ماحول میں تعلیم یا تدریس کا مناسب متبادل موجود ہو، وہاں مخلوط تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنا یا تدریس کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر حکومت کی پالیسی یا دیگر واقعی مجبوری کی بنا پر مطلوبہ تعلیم یا ملازمت کے لئے غیر مخلوط ادارہ میسر نہ ہو اور کوئی مناسب متبادل بھی موجود نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت وہاں تعلیم حاصل کرنے یا تدریس کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ مکمل شرعی پردے، نگاہوں کی حفاظت، بلا ضرورت اختلاط، گفتگو، ہنسی مذاق اور دیگر خلافِ شرع امور سے اجتناب کیا جائے اور غیر مخلوط تعلیمی ادارہ اختیار کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔ محض طالبات کا ماسک یا پردہ کرنا مخلوط نظام کے جواز کے لئے کافی نہیں، کیونکہ اصل ممانعت مرد و عورت کے اختلاط اور اس سے پیدا ہونے والے مفاسد کی وجہ سے ہے۔
نیز اگر استاد جائز مضمون کی تدریس کے عوض اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرتا ہے تو محض مخلوط تعلیمی ادارے میں پڑھانے کی وجہ سے اس کی تنخواہ حرام نہیں ہوگی، بلکہ وہ حلال ہوگی، البتہ اس میں شرعی حدود کی مکمل پابندی اور ہر قسم کے خلافِ شرع امور سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التنزیل العزیز:﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ أَزْكٰى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ﴾(سورۃ النور، آیت: 30)
وفی تفسیر ابن کثیر:﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾ ولهذا ذهب كثير من العلماء إلى أنه لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى الرجال الأجانب بشهوة ولا بغير شهوة أصلاً... (سورۃ النور، آیت: 31، 6/41، دار الكتب العلمية)
وفی البحر الرائق: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح، فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن، ولا تمطيطها، ولا تليينها، وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم... (3/72)
وفی رد المحتار: وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام. (26/392)
وفی المبسوط للسرخسي: ويكره له أن يستأجر امرأة... ولكن هذا النهي لمعنى في غير العقد فلا يمنع صحة الإجارة ووجوب الأجر إذا عمل، كالنهي عن البيع وقت النداء. (16/52، دار المعرفة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96757کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات