ابّو کا انتقال ہو چُکا ہے ۔ان کےدو فلیٹ ہیں جن کا کرایہ امی استعمال کرتی ہیں اور ابّو کی پینشن بھی۔چھوٹی بہن بھی امی کے ساتھ رہتی ہے۔بڑی دو بہنیں شادی شدہ ہیں اور پیسوں کے حساب سے بہت اچھی طرح سیٹ ہیں۔
ہم دو بہنیں اپنا شرعی حصہ ابھی نہیں لینا چاہتیں، اسی میں ہماری خوشی ہے،تا کہ امی سکون سے رہتی رہے۔
اس میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟
اور اگر ہمارے شوہر ہمیں مجبور کریں حصہ لینے پر تو کیا یہ جائز ہے؟
صورت مسؤلہ میں سوال میں مذکور دو بیٹیوں کا فی الحال تقسیم میراث کا مطالبہ نہ کرنا اور اپنے حصوں کا منافع والدہ اور غیرشادی شدہ بہن کو عطیہ کرنا ان کا صوابدیدی حق اور اختیار ہے ۔ان کے شوہروں کا انہیں اس پر مجبور کرنا شرعا جائز اور درست نہیں اور نہ ہی ان کا حق ہے اس لئے انہیں اپنے مذکور رویہ سے احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك وفي الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول اھ (5/ 688)
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: ومن وهب شقصا مشاعا فالهبة فاسدة" لما ذكرنا "فإن قسمه وسلمه جاز"؛ لأن تمامه بالقبض وعنده لا شيوع. (3/ 223)
وفى البحر الرائق: ويشترط في صحة هبة المشاع الذي لا يحتملها أن يكون قدرا معلوما حتى لو وهب نصيبه من عبد ولم يعلمه به لم يجز لأنها جهالة توجب المنازعة اھ (7/ 286)
کمافی دررالحکام : لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره اھ(1/ 559)۔