السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ میری پہلی اولاد فروری 2026 میں آپریشن (سی سیکشن) کے ذریعے پیدا ہوئی۔ ولادت کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے سختی سے ہدایت دی کہ اگر اپنی صحت محفوظ رکھنی ہے اور آئندہ بچوں کی نارمل ڈیلیوری کے امکانات بہتر رکھنے ہیں تو کم از کم 9 ماہ تک دوبارہ حمل نہیں ٹھہرنا چاہئیے، تاکہ دونوں بچوں کی پیدائش میں تقریباً 18 ماہ کا وقفہ ہو۔میری اور میرے شوہر کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں متعدد اولاد عطا فرمائے۔ لیکن ڈاکٹروں کے مطابق بار بار سی سیکشن کروانا، خصوصاً چار سے زیادہ آپریشن، ماں کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ الحمد للہ اس وقت میرا حمل تقریباً 20 دن کا ہے، جبکہ پچھلے سی سیکشن کو صرف تقریباً 4 ماہ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس وجہ سے میرا یہ حمل ہائی رسک شمار ہوتا ہے، کیونکہ رحم کے پھٹنے (Uterine Rupture) کا خطرہ موجود ہے، جس سے نہ صرف میری جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ہمیشہ کے لئے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی متاثر یا ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ابھی تک سی سیکشن کے ٹانکوں کی جگہ درد محسوس ہوتا ہے، جس سے مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ میرا جسم ابھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوا۔اس صورتِ حال میں، جبکہ حمل ابھی ابتدائی مرحلے (تقریباً 20 دن) میں ہے اور مذکورہ طبی خطرات موجود ہیں، کیا شرعاً میرے لئے اس حمل کو ختم کروانا جائز ہے؟ مثلاً ایسی دوا یا گولیاں استعمال کرنا جن سے حمل ساقط ہو جائے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم ا للہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکر کردہ وجوہات کی بنا پر چار ماہ پورے ہونے سے قبل سائلہ اپنا حمل ساقط کروا سکتی ہے۔ تاہم چار ماہ پورے ہونے پر حمل ساقط کروانا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار : «ويكره أن تسقى لإسقاط حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور۔۔۔۔وإن أسقطت ميتا ففي السقط غرة … لوالده من عاقل الأم تحضر» الخ
و فی الشامیۃ : تحت «(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ فرع: یکرہ اعطاء سائل المسجد ج:6 ص:429 ط: سعید۔کراتشی)۔