میںں ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ہوں میں اگر کسی ایسے شخص کو پراپرٹی دلا کر کمیشن وصول کرتا ہوں جو بینک لون کے ذریعےپراپرٹی خرید رہا ہے جس پر بینک اس سے (Interest) سود لیتا ہے تو میرا کمیشن جائز ہے یا نا جائز؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل کا کام فقط فروخت کی جانے والی پراپرٹی کی تعیین و نشاندہی (بروکری) کرنا اور خریدار و فروخت کنندہ کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ طے کرانا ہو، خریدار کی جانب سے بینک سے سودی قرض حاصل کرنے یا اس کی کارروائی میں اس کا کوئی عمل دخل نہ ہو، تو سائل کا اپنی بروکری کے عوض کمیشن وصول کرنا شرعاً جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کمافی الشامیۃ: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة." (کتاب الإجارۃ ، مطلب في أجرة الدلال ، ج : 6 ، ص : 63 ،ط : سعید)