میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ خلع کے بعد میری عدت کی مدت کتنی ہے؟ میری اپنے سابق شوہر سے ڈیڑھ سال پہلے علیحدگی ہو چکی ہے۔
واضح ہو کہ خلع جب باہمی رضامندی سے ہو تو اس کی اور طلاق کی عدت ایک جیسی ہے، اور وہ یہ ہےکہ اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی،اور اگر عورت حاملہ نہ ہو اور اسے حیض آتا ہوتو ایسی صورت میں اس کی عدت تین حیض ہوگی،اور اگر اسے حیض بھی نہ آتاہو تو ایسی صورت میں اس کی عدت تین ماہ ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ اور اس کے شوہر کے مابین باہمی رضامندی سے خلع کے ذریعہ علیحدگی واقع ہوئی ہو تو عقد خلع کے وجود میں آتے ہی عدت شروع ہوچکی ہے، لہذا سائلہ درج بالا اصول کے مطابق عدت کی تکمیل کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: ﴿وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِيٓ أَرۡحَامِهِنَّ الایۃ (البقرہ، ایۃ: 227)
وفیہ ایضاً: ﴿أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ الایۃ (الطلاق،ایۃ:6)
و فی الھندیۃ: الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير وقد يصح بلفظ البيع والشراء وقد يكون بالفارسية كذا في الظهيرية(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.(کتاب الطلاق، باب الخلع ، الفصل الاول، ج:1، ص: 488، ط:ماجدیہ)
و فی الدر: «وأنواعها حيض، وأشهر، ووضع حمل ۔۔۔۔(وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا (أو فسخ بجميع أسبابه) ۔۔۔۔۔۔(بعد الدخول حقيقة، أو حكما)۔۔۔۔۔۔ «(ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضة، فالأولى لتعرف براءة الرحم، والثانية لحرمة النكاح، والثالثة لفضيلة الحرية.
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3، ص:504، ط:سعید)
و فیہ ایضاً: «(و) العدة (في) حق (من لم تحض) حرة أم أم ولد (لصغر) بأن لم تبلغ تسعا (أو كبر) بأن بلغت سن الإياس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ثلاثة أشهر) (کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3، ص:508 ، ط:سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0