مباحات

اپنی عزت و آبرو بچانے کیلئے کسی سے قطع تعلقی کرنا

فتوی نمبر :
98044
| تاریخ :
2026-08-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اپنی عزت و آبرو بچانے کیلئے کسی سے قطع تعلقی کرنا

میرے شوہر کے سگے بھائی اور بھابھی سے ہمارا رشتہ ہے ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، نیچے اوپر کے پورشن میں، پہلے بھی کئی بار جھگڑا ہوا ہے۔ ہر بار میں خود جا کر ان سے معذرت کر کے صلح کر لیتی تھی۔ لیکن چند دن بعد پھر وہی بات شروع ہو جاتی ہے،بھابھی اکثر مجھے اور میرے بچوں کو محفلوں میں تنقید اور مذاق کا نشانہ بناتی ہیں، وہ خود کو مظلوم اور مجھے ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ، ان کے دل میں یہ شک ہے کہ ان کے بیٹے کی موت میں نے جادو کر کے کی ہے۔ حالانکہ ان کا بیٹا 25 سال کا تھا اور اس کی وفات گردے فیل ہونے سے ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے جو کہ سب سے بڑا تھا اس کی وفات کو 10 سال ہونے والے ہیں مگر ان کا دل صاف نہیں ہوا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ شاید ان کے دل میں اپنے بیٹے کی موت کا انتقام ہے، پراپرٹی کا جھگڑا بھی ہوا تھا جو الحمدللہ میرے شوہر کے حق میں فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد بھائیوں کے تعلقات بحال ہو گئے لیکن بھابھی کے دل میں ابھی بھی منفی سوچ ہے ، کچھ دن پہلے ہماری لڑائی اس بات پر ہوئی کہ وہ گیس چوری کر رہی تھیں۔ اس پر انہوں نے مجھے گالیاں دی تو میں نے بھی ان کو گالیاں دی۔ ایسا میری طرف سے پہلی بار ہوا ورنہ اکثر میری ان سے تلخ کلامی ہو جاتی تھی وہ گالیاں دیتیں مگر میں نہیں دیتی تھی۔ میں نے پہلی بار اتنا شدید ری ایکشن دیا، اس کے بعد انہوں نے مجھ پر اپنے بیٹے کو جادو سے مارنے کا جھوٹا الزام لگایا، اس پر انہوں نے اپنے میاں اور بیٹوں کی دھمکی دی۔ ان کے بیٹوں کے پاس گن ہے اور وہ اس بات پر پھو لتی ہیں جس پر میرے بیٹے نے ان کے بیٹے کے لیے گالی نکال دی۔ وہ اس بات پر شرمندہ تھا اور سوری کر لیتا،سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ جب ان میاں بیوی نے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں گن دے کر میرے بیٹے کو مارنے کا کہا تب سے مجھے ان میاں بیوی سے شدید نفرت ہو گئی ہے،ان کا میاں جو خود بھی ڈائیلاسز کا مریض ہے، وہ بھی سگا بھائی ہو کر میری اولاد کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے، اور میرے بیٹے سے کہتا ہے کہ جا کر اس کی بیوی سے معافی مانگو، میں نے بیٹے سے کہا کہ بہرحال وہ بڑے تایا ہیں تو سوری کر دو، لیکن گن والی بات کے بعد وہ عورت اور زیادہ دلیرہو گئی ہے اور اگلی بار اس سے بھی زیادہ کرے گی،اب میرا بیٹا ان میاں بیوی سے معافی نہیں مانگے گا کیونکہ وہ سمجھیں گی کہ ہم گن سے ڈر گئے ہیں اور اگلی بار اس سے بھی زیادہ فساد کریں گی، جب بھی ان سے ملنا جلنا شروع ہوتا ہے تو وہ بہانے بہانے سے مجھے تنگ کرتی ہیں اور میرا ذہنی سکون برباد کرتی ہیں،میری روٹین اور ایکٹیویٹیز پر نظر رکھتی ہیں، وہ عورت ہاتھ میں قرآن لے کر قسمیں بھی کھاتی رہتی ہے اور پھر مکر بھی جاتی ہے، مجھے ان سے اپنی عزت، جان اور مال سب کا خطرہ ہے
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں جب میری عزت، مال اور جان کو خطرہ ہو، اور صلح کی ہر کوشش پہلے فیل ہو چکی ہو، تو کیا میں ان سے ملنا جلنا بند کر سکتی ہوں؟ مجھے اور میرے گھر میں ان سے نہ ملنے میں ہی سکون کا ماحول رہتا ہے، کیونکہ جب بھی ملنا جلنا ہوتا ہے تو وہ میری زندگی میں انٹرفیئر کرتی ہیں،اور اس بار تو بات جان پر آ گئی ہے،اسلام اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟ کیا اپنی اور اپنی اولاد کی حفاظت کے لیے قطع تعلقی جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسلام نےمسلمان کی جان، مال، عزت، کا بڑا خیال رکھا ہے اور احادیث میں مسلمان کی عزت وآبرو کوکعبہ سے زیادہ محترم اور اس کی آبرو ریزی کو حرام قرار دیا گیاہے، اور ایک اچھے اور کامل مسلمان کی تعریف ہی یہ فرمائی ہے کہ کامل مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ اس کی دیورانی بلاوجہ اس کے اور اس کے بچوں کے ساتھ بداخلاقی وبدزبانی سے پیش آتی ہو، الزام تراشیاں کرتی ہو، اور ان کے لئے دل میں حسد وکینہ رکھتی ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے بیٹے کے قتل پر آمادہ ہو ، اور سمجھانے کے باوجود اصلاح اور بہتری کی کوئی امید نہ ہو تو ایسی صورت میں اپنی عزت اور جان کی تحفظ اور ا ن کی شر سے بچنے کی حد تک ان سے تعلقات کو محدود کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، اور اگر مکمل طور پر قطع تعلق کے بغیر ان کی شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں مکمل قطع تعلقی کی بھی اجازت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی صحيح البخاري:عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه)(باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده،ج:1،ص:130،رقم الحدیث:10،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی سنن الترمذی:عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المسلم أخو المسلم لا يخونه ولا يكذبه، ولا يخذله، كل المسلم على المسلم حرام عرضه وماله ودمه، التقوى ها هنا، بحسب امرئ من الشر أن يحتقر أخاه المسلم(باب ما جاء في شفقة المسلم على المسلم،ج:1،ص:693،رقم الحدیث:1924،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی المعجم الاوسط للطبرانی: عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال لما نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الكعبة قال: مرحبا بك من بيت ما أعظمك وأعظم حرمتك، وللمؤمن أعظم حرمة عند الله منك.
قلت: "إسناده حسن" فيه: حفص بن عبد الرحمن، أبو عمر البلخي النيسابوري: صدوق(ج:1،ص:259).
وفی حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق:نظرفيه بأن الهجران قد يجوز ويجب إذا كان لله بأن كان يتكلم بما هو معصية أو يخشى فتنة أو فساد عرضه بكلامه فلا نسلم أن الشارع منع الهجران مطلقا فحيث حلف لا يكلمه لا يحكم إلا أنه وجد المسوغ وإذا وجد اعتبر الداعي فتقيد بصباه وشبيبته الخ(کتاب الایمان،باب الیمین فی الاکل والشرب و اللبس والکلام،ج:3،ص:460،مط:دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98044کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات